Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 05:04 GMT 10:04 PST

ایران کو نئی ابتدا کی پیشکش

چار نومبر سن انیس سو اناسی کو تہران کے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا گیا اور عملے کو یرغمال بنایا گیا جس کے بعد کشیدہ صورتحال چار سو چوالیس روز تک جاری رہی

ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کی تیسویں سالگرہ پر ایک مرتبہ پھر امریکی صدر براک اوباما نے ماضی کی تلخیاں بھُلا کر ایران کے ساتھ نئے رشتے استوار کرنے کی پیشکش کی ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر اوباما نہ کہا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مشترکہ مفادات اور مشترکہ احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

چار نومبر سن انیس سو اناسی کو تہران کے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا گیا اور عملے کو یرغمال بنایا گیا جس کے بعد کشیدہ صورتحال چار سو چوالیس روز تک جاری رہی۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی خراب ہوگئے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطعہ ہوگئے جو آج تک استوار نہیں ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ واقعات مخاصمت، بداعتمادی اور محازآرائی کا آغاز تھے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور اس کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی مزمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے پر امن جوہری توانائی کے حصول کے حق کو تسلیم کرتا ہے اور وہ ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے حوالے سے اپنے اقدامات سے واضع کرچکا ہے کہ وہ اپنے ارادوں میں مخلص ہے۔

جوہری نگرانی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے پچھلے دنوں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک تجویز کا مسودہ ایران اور اس کے ساتھ بات چیت کرنے والے ممالک (سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی) کو دیا ہے جس میں ایران کو کسی دوسرے ملک سے افزودہ یورینیئم فراہم کرنے ی تجویز کے علاوہ ایران کو طبی شعبے میں مدد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

براک اوباما نے ایران کو تجویز دی ہے کہ اس کو اب یہ انتخاب کرنا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرکے بین الاقواما برادری کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اپنے عوام کو خوشحالی کی جانب لے جانا چاہتا ہے یا پھر ماضی کی تلخیوں کی بنیاد پر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

اوباما نہ کہا ہے کہ امریکی عوام ایران کی تاریغ اور اس کے عوام کا احترام کرتے ہیں اور اب ایران کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ ماضی کی تلخیاں بھلا کر بین الاقوامی برادری کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔