Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 5 november, 2009, 09:50 GMT 14:50 PST

غزہ حملہ:مزید تحقیقات کی حمایت

غزہ

اسرائیل کی جارحیت اور جرائم کا موازنہ فلسطینیوں کی طرف سے ہونے والی جوابی کارروائی سے نہیں کیا جا سکتا:فلسطین

اقوام متحدہ کے متعدد ارکان نے غزہ میں ’جنگی جرائم‘ کے بارے میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی جانب سے آزادانہ تحقیقات کی حمایت کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد جنگی جرائم کے بارے میں تیار کی جانے والی رپورٹ پر بحث کی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ جنگی جرائم کے سابق پراسیکیوٹر رچرڈ گولڈ سٹون نے تیار کی تھی۔

رپورٹ میں اسرائیل اور حماس دونوں کو دسمبر اور جنوری میں اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں فریقین کو ان واقعات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

رپورٹ میں اسرائیل پر زیادہ تنقید کی گئی ہے جبکہ اسرائیل نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ پہلے سے قائم تاثرات پر مبنی ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ رپورٹ سیاست بازی کے نتیجے میں بنی ہے۔

فلسطینی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بائیس روزہ لڑائی میں غزہ میں چودہ سو لوگ ہلاک ہوئے۔ اسرائیل مرنے والے والوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو چھیاسٹھ بتاتا ہے جس میں تین شہریوں سمیت تیرہ اسرائیل شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں مجوزہ قرارداد عرب اور غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک نے پیش کی تھی جن کی کل تعداد ایک سو اٹھارہ ہے۔ قرارداد کے مطابق فریقین کو مبینہ جنگی جرائم کے بارے میں آزادانہ تحقیق کا بندوبست کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کی طرف سے قرار داد عدم عملدرآمد کی صورت کے سکیورٹی کونسل بھی کارروائی کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے مبصر ریاض مسرور نے قرار داد کی حمایت کی لیکن اس کے ساتھ ہی زور دیا کہ اسرائیل کی ’جارحیت اور جرائم‘ کا موازنہ فلسطینیوں کی طرف سے ہونے والی جوابی کارروائی سے نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر گیبری ایل شالیو نے متنبہ کیا کہ غزہ پر جاری ہونے والی رپورٹ اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی قرارداد سے امن کی کوششوں کو تقویت نہیں ملے گی بلکہ اس سے خطے میں مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔

جنرل اسمبلی کی طرف سے قرارداد پر جمعرات کو رائے شماری متوقع ہے۔ جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر قانونی طور پر عمل کرنا لازم نہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔