
کلاؤد لیوی سٹراؤس علم بشریات میں مشہور نام ہے
معروف ماہرِ بشریات کلاؤد لیوی سٹراؤس کا سو برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔
کلاؤد لیوی سٹراؤس کا بیسویں صدی کے اہم اور انتہائی با اثر دانشوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تقریباً ساٹھ سال پہلے بشریات میں ’سٹکچرلِسزم‘ کا نظریہ بیان کیا تھا۔ اس نظریے کے تحت یہ سوچ پیش کی گئی تھی کہ ساخت کو عمل سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
اس سے پہلے سٹرکچرل سوچ لسانیت کی تحقیق میں استعمال کی گئی تھی لیکن لیوی سٹراؤس نے اسے انسانی معاشروں اور رشتوں کی تحقیق میں استعمال کیا اور یوں اس کی روشنی میں معشروں کی ثقافت اور خاندانی تنظیم کا تقابلی مطالعہ کیا۔
لیوی سٹراؤس انیس سو آٹھ میں برسلز میں ایک یہودی فرینچ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پیرس میں سوربون سے تعلم حاصل کی۔ انیس سو تیس کی دہائی میں برازیل کے جنگلوں میں رہنے والے قبائلیوں پر تحقیق کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ امریکہ میں گزارا جہاں ان کی ماہر بشریات فرانز بواز سے ملاقات ہوئی جو ان کے لیے ایک اہم دوست اور دانشور ثابت ہوئے۔
فرانس واپسی کے بعد لیوی سٹراؤس نے اپنا کام جاری رکھا اور شہرت پائی۔ ان کی اہم کتابوں میں ’دی ایلیمنٹری سٹرکچرز آف کِن شِپ‘ اور ’دا سیویج مائنڈ‘ شامل ہیں۔
کلاؤد لیوی سٹراؤس کے انتقال پر فرانس کے صدر نیکولاس سرکوزی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے زمانے کے نژادیات اور علم النسل کے اہم ترین ماہر تھے۔ اقوام متحدہ کی ثقافت سے متعلق تنظیم یونیسکو نے بھی ایک بیان میں کہا کہ لیوی سٹراؤس نے اپنی تحقیق کے ذریعے نسل کے بارے میں پائے جانے والی متعصبانہ خیالات کو دور کیا۔
لیوی سٹاؤس کا اسے نام کی امریکی جینز کی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
© MMIX