
جمہوریہ چیک کے صدر ویکلاو کلاؤس لسبن معاہدے کے مخالف ہیں
جمہوریہ چیک کے صدر ویکلاو کلاؤس نے یورپی یونین کے اختیارات و قوانین سے متعلق ’لِسبن معاہدے‘ پر دستخط کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاہدے کے عمل میں آنے کی راہ میں آخری رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔
یہ معاہدہ چار سال پہلے رد ہونے والے تجویز شدہ یورپی آئین کی ایک شکل ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی یونین میں دو نئے اہم عہدے قائم کیے جائیں گے، یعنی یورپی صدر اور خارجہ امور کے سربراہ کے عہدے۔ یورپی سفارتکاروں کی ایک نئی سروس بھی شروع کی جائے گی۔ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے اس دستاویز پر ممبر ممالک پچھلے دس برس سے کام کر رہے ہیں۔
معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے یورپی یونین کے ممبر ممالک کے کئی اہم قومی اختیارات برسلز کے حوالے ہو جائیں گے جو کہ قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
خیال ہے کہ یہ معاہدہ یکم دسمبر سے عمل میں آ جائے گا۔
دائیں بازو کے سیاستداں اور چیک صدر ویکلاو کلاؤس اس معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔ انہوں اس پر دستخط صرف چیک عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ جمہوریہ چیک کے آئین سے مطابقت رکھتا ہے۔
چیک صدر نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جانبدار فیصلہ تھا اور اس معاہدے سے جمہوریہ چیک کی خود مختاری کو خطرہ ہوگا۔
انہوں نے اس معاہدے پر اس شرط پر دستخط کیا ہے کہ یورپی یونین کا انسانی حقوق کا چارٹر ان کے ملک پر لاگو نہیں ہوگا۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس چارٹر کے تحت دوسری عالمی جنگ کے بعد چیکوسلوواکیا سے نکالے والے جرمن پاشندے جمہوریہ چیک کے خلاف جائداد کی بحالی کے مقدمات قائم کر سکیں گے۔
© MMIX