Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 1 november, 2009, 12:48 GMT 17:48 PST

بنگلہ دیش میں پولیس فساد کی تحقیقات

ٹونگی فساد

ٹونگی احتجاج اور پولیس سے تصادم کے دوران ایک دکاندار اپنی دکان لٹنے پر رو رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں حکومت نے پولیس اور گارمنٹ فیکٹریوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم اور ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع صنعتی قصبے ٹونگی میں گارمنٹ فیکٹریوں کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان اس وقت تصادم ہو گیا جب وہ اپنی تنخواہیں ادا نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ربر کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور سو کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِ داخلہ سہارا خاتون کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمٹی تشکیل دی گئی ہے جو دو ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

بھارت اور ویتنام کے ساتھ بنگلہ دیش بھی ان ملکوں میں شامل ہے جن کی برآمدات حالیہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں اور جنہیں دوسرے برآمدی ملکوں سے مقابلے کے لیے گارمنٹس سمیت برآمدی مصنوعات کے شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں کم کرنی پڑی ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔