Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 29 october, 2009, 09:19 GMT 14:19 PST

جنگ زدہ صومالیہ میں ایک سفر

الشباب کے مسلح کارکن

بلا مریر میں الشباب کی عملداری واضح طور پر دکھائی دیتی ہے

جب میں موغادیشو سے باہر نکلا تو پہلی چیز جس نے میری توجہ اپنی جانب کھینچی وہ سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑی کی گئی رکاوٹیں تھیں۔

جنگ زدہ صومالیہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں پر اب الشباب کا کنٹرول ہے۔ یہ وہی الشباب ہے جس کے بارے میں امریکہ کو یقین ہے کہ ان کے روابط القاعدہ سے ہیں۔

تاہم یہ کنٹرول مکمل نہیں ہے اور میں نے موغادیشو سے انتیس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ضلع اگفوئے کی جانب سفر کے دوران سڑکوں پر موجود رکاوٹوں پر تین مختلف گروہوں کی عملداری دیکھی۔

متعدد شدید اور خونی لڑائیوں کے باوجود صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے مختلف علاقوں پر حکومتی کنٹرول قائم ہے اور شہر کی پہلی حفاظتی چوکی بھی حکومت کی ہے جہاں مسافروں کو شہر میں سامان لانے اور لے جانے کے لیے رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

شبیل کے نچلے حصے میں امن کا دور دورہ ہے تاہم بہت سے افراد کا خیال ہے کہ یہ امن صرف ان کے لیے ہے جنہیں الشباب قبول کرتی ہے۔

دارالحکومت سے تھوڑا سا باہر نکلا تو میرا واسطہ الشباب کی پہلی حفاظتی چوکی سے پڑا۔ اس چوکی پر اگرچہ آپ سے کوئی رقم تو نہیں لی جاتی لیکن افراد اور سامان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ اس چوکی سے ذرا فاصلے پر ایک اور چوکی ہے جس کا انتظام الشباب کی بظاہر اتحادی تنظیم حزب الاسلام کے پاس ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں ان دونوں گروپوں کے درمیان جنوبی بندرگاہ کسمایو کے کنٹرول پر لڑائی ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں حزب الاسلام کو یہ شہر چھوڑنا پڑا تھا۔

لیکن شاید یہ واقعہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ تھا کیونکہ اب بھی اگفوئے کی جانب جانے والی سڑک پر حزب السلام کا ہی قبضہ ہے۔ حزب الاسلام کے زیرِ انتظام علاقے میں علیشہ بیاہا نامی علاقہ بھی واقع ہے جہاں موغادیشو سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔ حزب الاسلام ملیشیا کے جوان بھی حفاظتی چوکی پر لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں لیکن ان سے رقم کا تقاضا نہیں کرتے۔

اگفوئے سے اگر ساحلی قصبے مرکا کی جانب سفر کیا جائے تو وہاں زیادہ حفاظتی چوکیاں ہیں۔ یہاں یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ علاقے پر کنٹرول الشباب کا ہے۔ لانتا بر کے علاقے میں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ مسافروں کو حملوں کا کوئی خوف نہیں۔ اس سڑک پر سفر کے دوران میں نے الشباب ملیشیا کے جوانوں کو علاقے میں امن کے قیام کے لیے سڑک کے دونوں جانب گشت کرتے دیکھا۔

امدادی اداروں کے مطابق صومالیہ میں چالیس لاکھ افراد کو خوراک کے حوالے سے مدد درکار ہے

مجھے بتایا گیا کہ وہ ان گروپوں کی تلاش میں ہیں جو رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ علاقے میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ.کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ لانتا بر چیک پوائنٹ پر الشباب ملیشیا نے مردوں کی تلاشی لی جبکہ خواتین کو گاڑیوں میں بیٹھے رہنے دیا۔ اس علاقے میں عوامی ذرائع آمدورفت استعمال کرتے ہوئے خواتین اور مردوں کو ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں۔

الشباب کے کارکن موبائل فونز کی تلاشی بھی لیتے ہیں کہ کہیں ان میں کوئی نازیبا تصاویر، گانے یا ویڈیو موجود تو نہیں۔ الشباب نے موسیقی پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔.ایسے افراد جن کے سروں پر بالوں کی جھالر ہو الشباب کے ارکان ان کے سر مونڈ دیتے ہیں۔ شالنبود،گلوین اور بولا مریر کے اضلاع کے رہائشیوں نے مجھے بتایا کہ انہیں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی اور کھت چبانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ نماز کے اوقات میں کاروبار کی بھی اجازت نہیں اور یہ حکم الشباب کے زیرِ اثر تمام علاقوں پر لاگو ہے۔

صومالیہ کے صوبے شبیل کے کچھ نچلے علاقے بہت گرم مرطوب ہیں اور وہاں زندگی کے زیادہ آثار نہیں پائے جاتے۔ باقی علاقوں میں مویشیوں کو چرتے ہوئے اور بارش کے نتیجے میں جمع شدہ پانی پیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صومالیہ میں حکومتی افواج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی سے بھاگنے والے لاکھوں افراد نے اب شبیل کے علاقے بلا مریر میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ اب یہاں کاروبار پھل پھول رہے ہیں اور علاقہ بھی کچھ محفوظ معلوم ہوتا ہے۔

شالنبود،گلوین اور بولا مریر کے اضلاع کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی اور کھت چبانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ نماز کے اوقات میں کاروبار کی بھی اجازت نہیں اور یہ حکم الشباب کے زیرِ اثر تمام علاقوں پر لاگو ہے۔

میں نے یہاں تو گولی چلنے کی کوئی آواز سنی نہ ہی مجھے یہاں موغادیشو کی طرح مسلح افراد گشت کرتے نظر آئے۔یہاں موجود مسلح افراد صرف الشباب کے وہ کارکن تھے جو نماز کے اوقات میں لوگوں کو کاروبار بند کر کے مسجد جانے کا حکم دے درہے تھے۔

دیگر علاقوں میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد اس علاقے میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔ یہ علاقہ اب ان کاروباری افراد سے بھرا رہتا ہے جو اردگرد کے دیہات سے چیزیں خریدنے یا فروخت کرنے آتے ہیں۔.بلا مریر کے کسان، تل، مکئی اور تربوز اگا رہے ہیں اور میں نے کئی لاریوں کو ان فصلوں کو گوداموں تک پہنچاتے دیکھا۔.

ایسا لگتا ہے کہ شبیل کے نچلے حصے میں امن کا دور دورہ ہے تاہم بہت سے افراد کا خیال ہے کہ یہ امن صرف ان کے لیے ہے جنہیں الشباب قبول کرتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔