منگل کو یمن کے شہر صناء کی ایک عدالت نے چار ہوتھی باغیوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس باغیوں کو دو ہزار آٹھ ميں حکومت کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں ميں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مزید بارہ باغیوں کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

یمن کی حکومت نے دو ہزار اگست دو ہزار نو ميں بڑا آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں جھڑپوں کی ایک نئی لہر دیکھی گئی
یمن کے حکام کے مطابق بحیرۂ احمر میں یمن کے باغیوں کے لیے ہتھیار لے جانے والے ایک کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک اہلکار نے بتایا کہ میڈی کے نزدیک اس کشتی کو قبضے میں لیا گیا ہے جس میں ایرانی عملہ تھا اور کشتی کے ’کارگو‘ میں زیادہ تر ٹینک شکن ہتھیار تھے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
یمن کی حکومت نے اب تک اس خبر پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن ان کے اہلکار ایک عرصے سے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ باغیوں کو ایران کی جانب سے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایران اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی ال عالم نے اس واقعہ کو میڈیا کی بنائی ہوئی کہانی قرار دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پکڑے گئے باغیوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ایرانی اہلکاروں کی جانب سے مالی مدد موصول ہوتی ہے۔ لیکن صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے براہ راست ایران کی حکومت پر الزام عائد نہيں کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک مقامی یمنی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق پیر کو پکڑے گئے ایرانیوں ميں سے پانچ وہ ’انسٹرکٹرز‘ تھے جنہوں نے ہتھیار پہنچانے کے بعد زخمی ایرانیوں کو نکالنے کامنصوبہ بنایا تھا۔
منگل کو یمن کے شہر صناء کی ایک عدالت نے چار ہوتھی باغیوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس باغیوں کو دو ہزار آٹھ ميں حکومت کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں ميں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مزید بارہ باغیوں کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
باغیوں کو عام طور پر ہوتھی کے طور پر جانا جاتا ہے جو آزاد ملک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو سماج میں اہم مقام دینے کا بھی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ باغیوں کے مطابق ان کی برادری کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے۔
باغی سعودی عرب پر یمن کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں اور گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں کی سرحد پر باغیوں اور سعودی فورسز کی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
یمن حکومت باغیوں پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی حکمرانی بحال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ باغی زیادہ تر ملک کے شمالی علاقے میں موجود ہیں۔
منگل کو یمن کے شہر صناء کی ایک عدالت نے چار ہوتھی باغیوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ان باغیوں کو دو ہزار آٹھ ميں حکومت کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے سلسلے ميں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مزید بارہ باغیوں کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
ہوتھی نے دو ہزار چار میں پہلی مرتبہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے۔
یمن کی حکومت نے اگست دو ہزار نو ميں باغیوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں جھڑپوں کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔
امدادی ایجنسیوں کے مطابق ان جھڑپوں کے سبب ہزاروں افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔
© MMIX