Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 27 october, 2009, 10:02 GMT 15:02 PST

خاتون صحافی کے کوڑوں کی سزا معاف

شاہ عبداللہ

شاہ عبداللہ کی اس مقدمے میں مداخلت کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی

سعودی عرب میں ایک خاتون صحافی کو غیر اخلاقی ٹی وی شو کے انعقاد پر سنائی گئی ساٹھ کوڑوں کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔

سعودی شاہ عبداللہ نے کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیے جانے کے بعد صحافی روضانہ الیمی کو سنائی گئی ساٹھ کوڑوں کی سزا کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ شاہ عبداللہ کے اس کیس میں مداخلت کے بارے میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

سیٹلایٹ چینل سے نشر ہونے والے اس ٹی وی شو میں ایک شخص کا انٹرویو کیا گیا تھا جس میں اس نے اپنے ناجائز تعلقات کی تفصیل بتائی تھی۔یہ پروگرام لبنان کے ایک سیٹلائٹ چینل ایل بی سی نے بنایا تھا اور کئی ماہ قبل نشر ہونے کے بعد اس نے سعودی عرب میں ایک بڑا سکینڈل کھڑا کر دیا تھا۔

سزا پانے والی صحافی ایل بی سی کی ان دو خواتین ملازمین میں سے ایک ہیں جن کو پروگرام نشر ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ سعودی شاہ عبداللہ نےگزشتہ دو سالوں میں اہم مقدمات میں کوڑوں کی سزا سنائے جانے کے بعد مداخلت کی ہے۔

سعودی عرب میں جنسی تعلقات کے بارے میں بنایا جانے والا یہ پروگرام ’ریڈ لائنز‘ نامی ایک سیریز کا حصہ تھا جو ایک مقبول سیٹلائٹ چینل ایل بی سی نے نشر کیا تھا۔سعودی عورتوں سے ملنے اور جنسی تعلقات قائم کرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں بات کرنے کے جرم میں سعودی شہری ماذن عبدل جواد اور ان کے دو دوستوں کو پہلے ہی سزا ہوچکی ہے۔ ماذن نے ایل بی سی کے پروڈیوسرز پر دھوکا دینے کا الزام لگایا تھا۔

انٹرویو نشر ہونے کے بعد سعودی عرب میں ایل بی سی کے مختلف سٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا اور چینل کی دو خواتین پروڈیوسرز پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ایل بی سی نے ان مقدمات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی میڈیا کے ایک اہم شخصیت اور ارب پتی شہزادے الولید بن طلال ایل بی سی کے شراکت دار ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔