
برطانیہ کو برطانیہ میں پیدا ہونے والے دہشتگردوں سے خطرہ ہے: تھنک ٹینک
امریکہ کے ایک تھینک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ’دہشتگردی کی پائپ لائن‘ موجود ہے۔
امریکی تھینک ٹینک ’دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان جسمانی اور نظریاتی دہشتگردی کی ایک پائپ لائن موجود ہے جسے توڑنا انتہائی مشکل مگر ضروری ہے۔
اس تھینک ٹینک کےمطابق 2001 سے لے کر 2009 تک برطانیہ میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں سزا پانے والے ایک چوتھائی افراد کا تعلق پاکستان سے بنتا ہے۔
رپورٹ کےمطابق برطانیہ میں دہشتگردی کے ستاسی واقعات جن میں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں، ان میں اٹھارہ واقعات میں ملوث دہشتگردوں کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں اور انہوں نے دہشتگردی کی تربیت برطانیہ اور پاکستان میں حاصل کی تھی۔
رپورٹ میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے دہشتگردوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ دی ہیرٹیج فاؤنڈیشن نے برطانیہ میں بڑے دہشتگردی کے واقعات کے حقائق کا جائزہ لے کر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ان اٹھارہ افراد میں صرف ایک پاکستانی شہری تھا جبکہ باقی کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں۔ آٹھ سالوں میں دہشتگردی کے الزام میں مجرم قرار پانے والے ستاسی افراد میں سے اکسٹھ کا تعلق القاعدہ سے تھا۔
دہشتگردی کی پائپ لائن کو توڑنا انتہائی ضروری ہے لیکن انتہائی مشکل بھی۔ اگر امریکہ اور برطانیہ افغانستان میں القاعدہ کے دہشتگردی نیٹ ورک کو توڑے بغیر وہاں سے نکل آئے تو القاعدہ کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ مل جائے گی جہاں سے وہ عالمی دہشتگردی کے منصوبے بنایں گے۔
رپورٹ
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ شمالی افریقہ کے باشندے بھی برطانیہ میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں دہشگردی میں ملوث تیرہ افریقی باشندوں میں سے چھ کا تعلق الجزائر سے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کا برطانیہ میں دہشتگردی کے واقعات سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔
دی ہیرٹیج فاؤنڈیشن کے مطابق القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد برطانیہ کو دہشتگردی کے میدان میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کےمصنفین مسٹر برومنڈ اور مسٹر روچ کا موقف ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کو مل کر دہشتگردی کی اس پائپ لائن کو توڑنا ہوگا۔
مصنفین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشتگردی کی پائپ لائن کو توڑنا انتہائی ضروری ہے لیکن انتہائی مشکل بھی۔ ان کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور برطانیہ افغانستان میں القاعدہ کے دہشتگردی نیٹ ورک کو توڑے بغیر وہاں سے نکل آئے تو القاعدہ کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ مل جائے گی جہاں سے وہ عالمی دہشتگردی کے منصوبے بنایں گے۔
مصنفین نے برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے امیگریشن کے قوانین کو مزید سخت بنائے کیونکہ برطانیہ میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ستاسی میں سے اکیس افراد غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے تھے۔
مصنفین کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے مزید پھیلاؤ سے برطانیہ کے لیے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
© MMIX