
تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی محاصرے نے آب رسائی اور سیوریج سسٹم کو بحرانی مقام پر پہنچا دیا ہے
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی صاف پانی تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے جبکہ اسرائیل نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پانی تک رسائی سے متعلق اسرائیلی پابندیاں مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی محاصرے نے آب رسانی اور سیوریج کے نظام کو بحرانی مقام پر پہنچا دیا ہے۔ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کا یومیہ اوسط پانی کا خرچ ستر لیٹر ہے جبکہ ہر اسرائیلی اوسطاً تین سو لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو روزانہ بیس لیٹر پانی ملتا ہے جو ہنگامی حالات میں بھی سفارش کردہ کم از کم مقدار ہے جبکہ دوسری طرف یہودی بستیوں کے مکین سوئمنگ پول اور سر سبز باغیوں سے لطف اندورز ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ماؤنٹین اکویفر کا اسی فیصد پانی استعمال کرتا ہے جو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ واقعاتی طور پر غلط ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اس وقت اس مقدار سے زیادہ پانی مل رہا ہے جتنا سن انیس سو نوے کی دہائی میں ہونے والے اوسلو امن معاعدے میں درج کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے ترجمان مارک ریگیو کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام مصحکہ خیز ہے اور الزام لگایا ہے کہ فلسطینی بدانتظامی کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔
© MMIX