Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 27 october, 2009, 09:15 GMT 14:15 PST

اسرائیل پر پانی بند کرنے کا الزام

تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی محاصرے نے آب رسائی اور سیوریج سسٹم کو بحرانی مقام پر پہنچا دیا ہے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی صاف پانی تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے جبکہ اسرائیل نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پانی تک رسائی سے متعلق اسرائیلی پابندیاں مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی محاصرے نے آب رسانی اور سیوریج کے نظام کو بحرانی مقام پر پہنچا دیا ہے۔ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کا یومیہ اوسط پانی کا خرچ ستر لیٹر ہے جبکہ ہر اسرائیلی اوسطاً تین سو لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو روزانہ بیس لیٹر پانی ملتا ہے جو ہنگامی حالات میں بھی سفارش کردہ کم از کم مقدار ہے جبکہ دوسری طرف یہودی بستیوں کے مکین سوئمنگ پول اور سر سبز باغیوں سے لطف اندورز ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ماؤنٹین اکویفر کا اسی فیصد پانی استعمال کرتا ہے جو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ واقعاتی طور پر غلط ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اس وقت اس مقدار سے زیادہ پانی مل رہا ہے جتنا سن انیس سو نوے کی دہائی میں ہونے والے اوسلو امن معاعدے میں درج کیا گیا تھا۔

اسرائیل کے ترجمان مارک ریگیو کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام مصحکہ خیز ہے اور الزام لگایا ہے کہ فلسطینی بدانتظامی کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔