
رحمٰن بنیری
آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے والے پاکستانی صحافی رحمٰن بنیری اب خیر وعافیت سے زمین پر اتر چکے ہیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں دس دن امریکی جیلوں میں اذیت برداشت کرنا پڑی اور پھر، بقول ان کے، نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی پناہ لینا پڑی ہے۔
بنیری پاکستان میں ایک پشتو ٹیلی وژن چینل سے وابستہ تھے اور امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی رپورٹنگ پر طالبان ان سے سخت ناراض ہوئے جس کے بعد بنیر میں ان کے گھر کو تباہ کر دیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں۔
یہ دس روز انتہائی اذیت ناک تھے اور مجھے لگا کہ میں پاگل ہوجاؤں گا۔ شروع میں تو مجھے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رکھاگیا جو کہ نعمت سرحدی اور سلطان راہی جیسے کردار لگتے تھے۔
رحمٰن بنیری
امریکی نشریاتی ادارے نے بنیری کی زندگی کو خطرے کے پیش نظر ان کو عجلت میں اس ویزے پر امریکہ بلوا لیا جو تحقیق اور تجربے کے لیے امریکی حکام جاری کرتے ہیں اور جسے ’جے۔ون‘ ویزا کہا جاتا ہے۔ لیکن واشنگٹن کے ڈیلیس ایئرپورٹ پر حکام ان سے بات چیت کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کے ان کے آنے کا مقصد ’جان کو خطرہ‘ تھا، اس لیے جے۔ون ویزا کی بنیاد پر ان کا ملک میں داخل ہونا درست نہیں۔ نتیجے میں ان کوگرفتار کر لیا گیا۔
بنیری نے دس دن جیل میں گزارے جس کے دوران ان کے وکیل پال ورچو نے ان کی سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی جس کا فیصلہ گزشتہ ہفتے ہوا۔ جج نے انہیں امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
’یہ دس روز انتہائی اذیت ناک تھے اور مجھے لگا کہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔ شروع میں تو مجھے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رکھاگیا جو کہ نعمت سرحدی اور سلطان راہی جیسے کردار لگتے تھے‘، بنیری نے جمعہ کے روز پاسپورٹ ملنے اور کیس کا فیصلہ ہونے کے بعد مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی پناہ کسی صورت میں نہیں لینا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس راستے بہت محدود تھے کیونکہ وہ پاکستان واپس جانا افورڈ نہیں کر پا رہے تھے اور وکیل نے انہیں مشورہ یہی دیا کہ وہ سیاسی پناہ لے لیں۔
رحمٰن بنیری کے معاملے کو امریکی میڈیا نے خاصی اہمیت دی اور کہا کہ ایک شخص جسے امریکی حکومت کے نشریاتی ادارے نے بلایا ہے اس کے ساتھ یہ رویہ امریکی قوانین کا مذاق ہے۔ لیکن گزشتہ تین چار ہفتے کے دوران جب بنیری ان تمام مسائل سے گزر رہے تھے، امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے نے ان کی کوئی خیر خبر نہیں لی۔ بنیری نے سفارتخانے کی مکمل لاتعلقی پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا۔
’میرے لوگ، میرے خیالات‘
یہ عنوان ہے ممتاز کالم نویس اور دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز کے انگریزی کالموں پر مبنی کتاب کا جس کی پچھلے دنوں ورجینیا میں ڈاکٹر منظور اعجاز کے گھر میں رونمائی ہوئی۔
’مائی پیپل، مائی تھاٹس‘ منظور اعجاز کے پاکستانی اخبار ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والے کالموں پر مبنی کتاب ہے جسے سندھ کے جواں سال لکھاری اور سماجی کارکن ذوالقار ہالیپوٹو نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب بھی ڈاکٹر منظور اعجاز کی شخصیت کی طرح بہت راست ہے۔ کالموں میں روایتی سوچ، نظریات اور رویوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عام ڈگر سے ہٹ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اور یہ کتاب چھپی کس طرح ہے اس کا اندازہ آپ ڈاکٹر منظور کی طرف سے بھیجے ہوئے دعوت نامے کی عبارت سے لگا سکتے ہیں جس میں انہوں نے لکھا کہ میں ’یہ دعوت اپنی مشہوری کے لیے نہیں کر رہا بلکہ کتاب بیچنے کے لیے کر رہا ہوں تاکہ پبلشر کو پیسے دیے جا سکیں‘۔ کتاب کی قیمت ہے پچیس ڈالر۔
مرتا کیا نہ کرتا، آخر دینے ہی پڑے پچیس ڈالر۔ امریکہ عجیب جگہ ہے، مفت میں کچھ نہیں ملتا، صحافیوں کو بھی نہیں۔
© MMIX