
زیر آب اجلاس کے لیے وزراء کو کئی روز تیاری کروائی گئی
مالدیپ کے صدر محمد ناشید اور ان کی کابینہ نے سنیچر کو زیرِ آب اجلاس منعقد کیا جس کا مقصد جزیروں پرمشتمل اس ملک کو موسم کی تبدیلی سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔
صدر ناشید کے مشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ زیر آب کابینہ کے اجلاس کا مقصد سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے حوالے سے دنیا کو پیغام پہنچانا تھا۔ اجلاس میں دنیا میں کاربن ڈآئی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے لیے ایک دستاویز پر دستخط کیے۔
سمندر کے نیچے رنگ برنگی مچھلیوں کے بیچ میں صدر ناشید اور ان کی کابینہ کے ارکان نے غوط خوری کے لباس میں ملاقات کی۔
اجلاس کے بعد صدر ناشید سے ایک اخباری کانفرنس میں پوچھا گیا کہ ڈینمارک میں ماحول کے بارے میں آئندہ ہونے والا اجلاس اگر ناکام ہوا تو اس سے مالدیپ پر کیا اثر ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم مر جائیں گے۔‘
بعض سائنسدانوں نے پیشینگوئی کی ہے کہ سمندر کی سطح میں بلندی کی وجہ سے اس صدی کے آخر تک مالدیپ میں انسانوں کا رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
مالدیپ کی سمندر کی سطح سے اوسط بلندی دو اعشاریہ ایک میٹر ہے۔ ملک کی حکومت کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافے سے ان کا ملک ڈوب جائے گا۔
زیر آب اجلاس کے دوران وزراء نے ہاتھوں کے اشاروں سے اور نمی سے محفوظ رہنے والے بورڈ اور قلم سے ایک دوسرے کو اپنے پیغام پہنچائے۔
اجلاس پانی کی سطح سے چار میٹر نیچے منعقد ہوا اور تیس منٹ جاری رہا۔
© MMIX