
امریکہ میں اگر ایک طبقہ نے اس بل کی مخالفت کی ہے تو بہت سے لوگ اس کے حامی ہیں
امریکہ میں سینیٹ کی کمیٹی نے اس مجوزہ بل کو منظوری دیدی ہے جس کے تحت صدر براک اوباما صحت کے شعبہ میں اصلاحات چاہتے ہیں۔
سینیٹ پینل کے تئیس ارکان میں سے چودہ نے بل کی حمایت جبکہ نو نے اس کی مخالفت کی ہے۔
ایک ریپبلکن رکن نے بھی بل کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر اولمپیا سنو ایسی پہلی ریپبلکن ہیں جنہوں نے اس مجوزہ بل کی حمایت کی ہے۔
شعبہ صحت میں اصلاحات کا مقصد قیمتوں میں کمی کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انشورنش پالیسی لے سکیں۔
امریکی صدر براک اوباما کی گھریلو پالیسیز میں شعبہ صحت میں اصلاحات سب اہم ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے فیصلے کا یہ کہہ کر خیرمقدم کیا ہے کہ ’یہ اہم سنگِ میل ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم شعبہ صحت میں اصلاحات کو منظور کرنے میں اب پہلے سے بھی قریب ہیں لیکن ابھی بھی ہم وہاں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ہمارے لیے یہ موقع نہیں ہے کہ اب ہم اپنی پیٹھ کو تھپتھپائیں بلکہ اس کے لیے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کام کو پورا کر سکیں‘۔
ماہرین کے مطابق صدر براک اوباما کو پتہ ہے کہ اس بارے میں ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن سینیٹ کمیٹی سے بل کی منظوری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
ریپبلکن ارکان اوباما کے اس منصوبے کے سخت مخالف ہیں لیکن سینیٹر سنو نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’جب تاریخ پکارتی ہے تو پھر پکارتی ہے‘۔ لیکن اعتدال پسند ریپبلکن نے یہ بھی کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ مستقبل بھی اس بل کی حمایت کریں۔’ابھی بہت کچھ کرنا ہے میرا ووٹ آج میرا ووٹ ہے لیکن کل کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا‘۔
شعبہ صحت میں اصلاحات کے اس بل کو بڑے بحث و مباحثے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔اس کے تحت آٹھ سو انتیس ارب ڈالر کی لاگت سے آئندہ دس برس کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے کم قیمتوں پر بیشتر امریکی شہریوں کو انشورنس فراہم کیا جا سکےگا۔
ریپبلیکن سینیٹر چارلس گراسلے نے اس مجوہ بل پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ کانگریس میں آنے تک یہ گر جائےگا۔’یہ بل پہلے ہی سے پھسل رہا ہے جس سے شعبہ صحت پر حکومت کا کنٹرول اور بڑھ جائے گا‘۔
اب فنانس کمیٹی کے بل کو سینیٹ کے اس منظور شدہ بل کے ساتھ ملایا جائیگا اور پھر ووٹ کے لیے اسے سینیٹ میں پیش کیا جائیگا۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اسے منظوری ہی مل جائے کیونکہ اسے پاس ہونے کے لیے تمام ڈیموکریٹس، دو آزاد ارکان اور ایک ریپبلکن رکن کا ووٹ ضروری ہوگا۔
© MMIX