
حال ہی میں والیس سوزا کی پارلیمانی رکنیت ختم کر دی گئی تھی
برازيل میں ایک کرائم شو کے میزبان نےگرفتاری دے دی ہے جن پر پروگرام کی ریٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے قتل کرانے کا الزام ہے۔
حکام کو والیس سُوزا کی اس وقت سے تلاش تھی جب وہ اپنے خلاف وارنٹ جاری ہونے کے بعد غائب ہو گئے تھے۔
ویلیس سوزا نامی اس ٹی وی میزبان پر منشیات کی سمگلنگ، اپنے دشمنوں سے نجات پانے کے لیے ہلاکتوں کا حکم دینے اور ان خبروں کی بنیاد پر اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے۔
گزشتہ ہفتے تک ویلیس سوزا کو رکنِ پارلیمان ہونے کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا تاہم گزشتہ ہفتے امیزون کی اسمبلی نے ان کی رکنیت خارج کر دی تھی۔
رکنیت کے اخراج کے بعد ویلیس کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے اور امیزون خطے کے ماناؤس شہر کی سڑکوں اور ہوائی اڈوں پر ان کی تلاشی کا کام تیزی سے جاری تھا۔
ریاست امیزون کے دارالحکومت مانوس میں پولیس کے ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سوزا نے جمعے کی صبح خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
مسٹر ویلس سوزا نےکہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات انہیں بدنام کرنےکے لیے ان کے دشمنوں کی سازش ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایمیزونا کی ریاست میں ہلاکتوں کا حکم دیا اور ٹی وی ٹیم کو ان مناظر کو فلمبند کرنے کے لیے پہلے سے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے لیے خبردار کیا۔
اس ٹی وی شو کو ایک سال قبل پولیس نے انکوائری شروع کرنے کی بعد بند کر دیا تھا۔ اگر پولیس کے لگائے گئے الزامات درست ہیں تو پھر یہ ایک ایسا ٹی وی شو ہوگا جو کہ نہ صرف جرائم کو رپورٹ کرتا ہے بلکہ ان جرائم کے پیچھے خود اس کا ہاتھ بھی تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر سوزا نے منشیات کی سمگلنگ میں اپنے مخالفین سے چھٹکارا پانے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے پانچ افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر سوزا اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ریاست ایمیزونا کے جس علاقے کی وہ نمائندگی کرتے ہیں وہ جرائم کا گڑھ ہے۔
© MMIX