
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں ان خبروں کے پس منظر میں کہ دنیا کے کئی ممالک بشمول فرانس کے تیل خریدنے کے لیے ڈالر کا استعمال بند کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اپنی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
لندن میں سونے کی قیمت ایک ہزار چالیس ڈالر فی آونس پر پہنچ گئی۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت ماضی میں کبھی اس سطح پر نہیں پہنچی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ سونا ایک ہزار ڈالر فی آونس کی قیمت پر مستحکم رہ سکتا ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافہ ایک تو ڈالر کی قیمت میں کمی اور دوسرے ان قیاس آرائیوں کی وجہ سے ہوا ہے کہ امریکی ڈالر عالمی منڈی میں واحد کرنسی (زرمبادلہ) کے طور اپنی جگہ کھو رہا ہے۔
ڈالر کے بارے میں یہ خدشات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ہر بار انہیں اتنی ہی شدت سے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ ان خدشات نے برطانوی اخبار ’انڈیپینڈنپ‘ میں ایک خبر کی اشاعات کے بعد جنم لیا ہے۔
اخبار نے دعوی کیا ہے کہ مشرقِ وسطی کے تیل پیدا کرنے والے کئی ملک، چین روس اور فرانس کی پشت پناہی پر تیل کا کاروبار ڈالر کی بجائے دنیا کی دیگر کرنسیوں میں کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
مشرق وسطی کے ملکوں جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے اس خبر کی تردید کی ہے جبکہ دوسرے ملکوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔
تاہم یہ امر اپنی جگہ مُسلم ہے کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کو وجہ سے تیل فروخت کرنے والے ملکوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
امریکہ کافی عرصے سے اس دباؤ میں ہے کہ وہ اپنی اندرونی اقتصادی پالیسی بناتے وقت اس امر کا خیال رکھے لیکن امریکی اکثر اس بات پر دھیان نہیں دیتے۔
© MMIX