Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 26 september, 2009, 06:21 GMT 11:21 PST

ایران کو مزید مخالفت کا سامنا

پٹسبرگ

ایران کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ اس کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کا ایک اور پلانٹ بھی موجود ہے، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو ایران پر دباؤ بڑہانے کے لیے مزید مواد حاصل ہوگیا ہے۔

ایران کے اس اعلان سے قبل امریکہ اور برطانیہ شاید دو ایسے ممالک تھے جو ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کے حق میں تھے، لیکن اب پٹسبرگ میں جاری جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس کے دوران اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پابندیوں کی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو اس کی حمایت امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ فرانس، روس اور جرمنی بھی کریں گے جبکہ بعض مسلمان ممالک بھی قرارداد کی حمایت کے لیے پر تول رہے ہیں۔ تاہم سعودی عرب اور مصر وغیرہ غیر حاضر ہونے کے اشارے دے رہے ہیں۔

روس نے، جو اب تک ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سےاجتناب برت رہا تھا، جمعہ کے روز ایک غیر معمولی سخت بیان جاری کیا ہے۔ روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے خفیہ پلانٹ کی موجودگی کا انکشاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

روس نے مطالبہ کیا کہ ایٹمی معاملات کے نگران عالمی ادارے آئی اے ای اے کو ایران کے خفیہ نیوکلیئر پلانٹ کی لازمی طور پر تحقیقات کرنی چاہئیں اور ایران لازمی طور پر ان تحقیقات میں ہر طرح کی مدد فراہم کرے۔

اس سے قبل امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بریفنگ میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے آئی اے ای اے کو قم میں ایران کے ایٹمی پلانٹ سے متعلق تفصیلی ثبوت فراہم کیے ہیں۔ ان ممالک نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو اس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں نافذ ہوسکتی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ عالمی طاقتیں یکم اکتوبر کو ایران کے ساتھ ہونےہ والے مزاکرات کے نتائج کا اعلان کریں گے اور اگر ایران کی جانب سے اس کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مثبت اشارے سامنے نہیں آتے تو امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے خلاف سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔

لیکن سوال یہ کہ ایک ایسی صورتحال میں جہاں امریکہ کے لیے ایران کے خلاف جنگ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیا ایران اقتصادی پابندیوں سے گھبرا کر اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتا کرے گا؟

بی بی سی سے وابستہ ایک ایرانی تجزیہ نگار مجید جنیدی کا خیال ہے کہ ایران کو عالمی طاقتوں کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ مجیدی کے مطابق یہ پابندیاں ایک طرح سے ایران کے قدامت پسند حکمرانوں کے لیے فائدے مند ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ جب ان پابندیوں کے اثر کی وجہ سے غربت اور مفلسی اور بڑھے گی تو ایرانی عوام کی امریکہ اور مغرب کے لیے نفرت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایسے حالات میں بعض تجزیہ نگاروں کے بقول ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل کے ذریعے حملہ کرائے جانے کو خارج از امکان نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔