Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 4 july, 2009, 09:07 GMT 14:07 PST

سارہ پیلن استعفیٰ ديں گی

سارہ پیلن

سارہ پیلن کے عہدے کی مدت دو ہزار بارہ میں ختم ہو رہی ہے

امریکی نائب صدر کی سابق امیدوار سارہ پلین نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھبیس جولائی کو الاسکا کے گورنر کے عہدے سے استعفی دے دیں گی اور دوبارہ اس عہدے کے لیے انتخابی میدان میں نہيں اتریں گی۔

سارہ پیلن کے عہدے کی مدت دو ہزار بارہ میں ختم ہو رہی ہے۔

بعض افراد کے خیال ميں رپبلکن پارٹی کی امیدوار سارہ پیلن دو ہزار بارہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔

لیکن این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سارہ پیلن مکمل طور پر سیاست چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کے استعفی کے بعد الاسکا کے لفٹیننٹ گورنر شان پارنیل گورنر کے عہدے پر فائز ہو جائيں گے۔

بعض جائزوں کے مطابق گورنر بننے کی شروعاتی مدت ميں سارہ پلین نے الاسکا میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی لیکن نائب صدر کے عہدے کی امیدوار بننے کے بعد ان کی مقبولیت میں کافی کمی آ گئی تھی۔

سارہ پیلن نے اپنے فیصلہ کا اعلان الاسکا کے اپنے آبائی شہر وسیلا سے ایک بیان جاری کر کے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ' میں اپنی لڑائی ایک نئی اور صحیح سمت کی طرف لے جا رہی ہوں۔'

سارہ پیلن نے اس بات کا انکشاف نہيں کیا ہے کہ وہ گورنر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد کیا کریں گی اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ دوبارہ گورنر کے عہدے کے لیے انتخابی میدان میں نہ اترنے کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے۔

ایک بیان میں سارہ پیلن نے کہا کہ ایک مرتبہ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ گورنر کے عہدے کے لیے دوبارہ کھڑی نہيں ہوں کی تو وہ اس عہدے پر فائز رہنا نہیں چاہتی تھیں۔

واشنگٹن ميں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سارہ پیلن کے استعفی کا فیصلہ اچانک آیا ہے اوریہ فیصلہ ایک ایسے وقت ميں آیا ہے جب بیشتر امریکی چار جولائی کو یوم جمہوریہ کے جشن میں مصروف تھے۔

نامہ نگار کے مطابق قومی سطح پر آنے کے بعد اعتدال پسندوں نے سارہ پیلن کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رائے

ٹائم میگزین کا کہنا ہے کہ اگر سارا پیلن امریکہ میں آئندہ صدرارتی انتخابات لڑنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنے ووٹرز کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ صدر کیوں بنیں جب انہوں نے اپنا گورنر کا عہدہ مدت ختم ہونے سے پہلے چھوڑ دیا اور گورنر عہدے کے دوسرے برس میں کئی ماہ نائب صدر کے عہدے کے لیے مہم چلانے میں برباد کیوں کیے۔

نیشنل کورنر بلاگ میں کیتھرن جان لوپیز نے لکھا ہے کہ امریکیوں کو سارا پیلن کو یہ چوائس دینی چاہیے کہ وہ جو کرنا چاہے کریں۔ وہ لکھتی ہیں کہ سارا پیلن کو سن کر ایسا لگتا ہے کہ انکے لیے سارا پیلن سیاست دان اور سارا پلین ماں اور بیوی کے کردار میں توازن پیدا کرنا ایک چیلنج ہے۔

ویکلی اسٹنڈرڈز کے ولیم کرسٹول کا کہنا ہے کہ اگر سارا پیلن 2012 میں صدارتی انتخابات لڑنا چاہتی ہیں تو وہ گورنر کے عہدے سے مستعفی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک جوا ہوسکتا ہے اور شاید انہیں مہنگا بھی پڑے لیکن ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو گورنر کی ذمہ داریوں سے آزاد کررہی ہیں تاکہ اب وہ صدارتی انتخابات کی تیاریاں صحیح سے کرسکیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔