
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی صوبائی عدالت نے دو خواتین کے ریپ اور قتل معاملہ سے متلعق حکومت اور تفتیشی اداروں کو سخت ہدایات دی ہیں
جنوبی کشمیر میں ریپ اور قتل کا یہ معاملہ پانچ ہفتوں سے احتجاج، کشیدگی اور ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے۔ صوبائی عدالت نے کہا ہے کہ مقتول خواتین کی لاشوں کو قبروں سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے تاہم اس کے لیے ان کے لواحقین کا آمادہ ہونا لازمی ہے۔ ریپ اور قتل کا یہ واقعہ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں انتیس مئی کی رات کو پیش آیا تھا۔
صوبے کے چیف جسٹس بارین گوش کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے حکومتی تفتیش پر اعتراض کی عرضی پر بحث کے دوران سنیچر کو ایک طویل ہدایت نامہ جاری کیا جس میں اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس کے خصوصی عملے کو جائے واردات اور اس کے گردونواح کی نئے سرے سے نشاندہی کرنے کو کہا گیا ہے۔
حکومت سے مزید کہا گیا ہے کہ مقتولین کے گھر، اُس جگہ جہاں وہ واردات سے قبل باغ میں کام کر رہی تھیں، لاشیں ملنے کا مقام اور گردونواح میں پولیس اور سی آر پی ایف کے کیمپ کا سارا احاطہ تفتیش کے دائرے میں لایا جائے اور ان حدود میں آنے والے تمام مقامی و غیرمقامی شہریوں اور وہاں تعینات پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی فہرست مرتب کرکے تفتیشی عملے کے سپرد کردی جائے۔
عدالت نے ان حدود میں آنے والے کسی بھی شہری، پولیس یا فورسز اہلکار کو قصبہ میں ہی موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے موبائل فون کمپنیوں کو اُنتیس مئی کے بعد قصبہ کے تمام لوگوں اور پولیس افسروں کی کال کی تفصیلات جمع کرکے تفتیشی عملہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔
ساتھ ہی حکومت کے تفتیشی عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ مقتولین کے جسم سے ملنے والے شواہد کے موازنہ کی خاطر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام کرے۔ حکومت کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ معطل کئے گئے پولیس افسروں اور اہلکاروں کی پوچھ گچھ کرے اور اگر ضرورت پڑے تو ان اہلکاورں کے ساتھ ساتھ بیان دنے والے گواہوں کا منشیات کے اثر کو جانچنے والا مخصوص نارکوٹِک تجزیہ بھی کروائیں۔
عدالتی حکمنامہ کے مطابق اُنتیس اور تیس مئی کی درمیانی رات کو شوپیان کی جن دو خواتین کا ریپ اور بعد میں قتل ہوا تھا، ان کا نئے سرے سے پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے ان کی لاشوں کو قبروں سے نکالنا ہوگا۔ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مقتولین کے لواحقین کو اس بات پر آمادہ کرے اور اگر وہ راضی ہوتے ہیں تو صوبائی میڈیکل کالج کے دو ماہر ڈاکٹروں کو پوسٹ مارٹم کے لیے تعینات کیا جائے۔
حکمنامے کے مطابق صوبے کے سینئر پولیس افسر فاروق احمد کو تفتیشی عمل کا نگران تعینات کیا گیا ہے ۔ بھارتی مرکزی فورسز یا سی آر پی ایف کے ساتھ ساتھ مرکزی فارینسیک لیبارٹری کو بھی اس کیس میں فریق بنا کر انہیں تفیتشی عملے سے تعاون کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مقامی وکلاء کی انجمن کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت کے تفتیشی عملہ سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت میں رِٹ درخواست پیش کی تھی، جس میں تفتیشی عملہ کو جوابدہ بنانے کے لیے عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ خود اس تفتیش کی نگرانی کرے۔ رِٹ کی اس عرضی پر سماعت کے دوران حکومت کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ جنرل محمد اسحٰق قادری نے عدالت سے کہا تھا کہ اس درخواست کو مسترد کرکے بار ایسوسی ایشن پر عدالت کا وقت ضائع کرنے کے لیے جرمانہ عائد کیا جائے۔ لیکن عدالت نے نہ صرف رِٹ درخواست منظور کرلی بلکہ شوپیان کیس سے متعلق تفتیش کو نیا موڑ دے کر طویل حُکم نامہ جاری کردیا۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت نے تفتیش میں تاخیر اور اہم شواہد کو ضائع کرنے کے الزام میں دو سینئر پولیس افسروں اور بعد دیگر پولیس و سِول اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔
واضح رہے کہ شوپیان میں، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، پچھلے پانچ ہفتوں سے مسلسل ہڑتال ہے اور لوگوں نے علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے زندگی بحال کرنے کی اپیل کے باجود انصاف ملنے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
© MMIX