
برما کی فوجی حکومت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی سے جیل میں ملنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
مسٹر بان کی مون کو یہ خبر اس وقت دی گئی جب وہ برما کے فوجی رہنما جنرل تھان شو سے اس سلسلے میں بات چیت کے دوسرے مرحلے میں تھے۔
جنرل تھان شو نے صحافیوں سے کہا کہ مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے‘۔
آنگ سان سوچی پر نظر بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے اور اس سلسلے میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔
بان کی مون نے بتایا کہ مسٹر تھان شو نے انہیں بتایا ہے کہ آنگ سان سوچی کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور وہ مقدمہ کی سماعت میں کسی طرح کا رخنہ نہیں ڈالنا چاہتے۔
بان کی مون نے بتایا کہ برما کی حکومت کی جانب سے انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے 2012 میں ہونے والے انتخابات شفاف اور آزادانہ ہونگیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ سنیچر کو بان کی مون برما سے متعلق اقوام متحدہ کے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔
امن کے لیے نوبل انعام یافتہ اور برما میں جمہوریت کی حامی آنگ سوچی نے گزشتہ بیس برس نظر بندی اور جیل میں گزارے ہیں۔
برما حکومت نے مئی میں انہیں انکے گھر میں قید سے جیل بھیج دیا تھا کیونکہ ان کا الزام تھا آنگ سوچی نے نظر بندی کے دوران ایک امریکی شہری کو اپنے گھر میں آنے دیا تھا۔ اگر ان پر یہ الزام ثابت ہوجاتا ہے تو انہیں پانچ برس کی قید ہوسکتی ہے۔
© MMIX