Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 29 june, 2009, 04:23 GMT 09:23 PST

گنڈولوں کی پہلی خاتون کھیون ہار

ٹیسٹ میں کامیابی کے باوجود جیورجیا کو باقاعدہ عملی تربیت اور آزمائشی مدت مکمل کرنی ہوگی

اٹلی کے منفرد شہر وینس کے رہائشی اور وہاں جانے والے سیاح اس ہفتے سے مساوات مردوزن کی ایک نئی صورت دیکھیں گے کیونکہ تئیس برس کی ایک خاتون، جو دو بچوں کی ماں بھی ہیں، وینس کے ان روایتی گنڈولوں کی پہلی خاتون کھیون ہار بن گئی ہیں جن کو اب تک صرف مرد ہی چلاتے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈف کے مطابق گزشتہ نو صدیوں سے اٹلی کے اس رومانوی شہر میں چپٹے پیندے کے گنڈولے وینس کی نہروں میں چلانا ایک ایسا فن تھا جو باپ صرف اپنے بیٹوں کو منتقل کیا کرتے تھے۔ لیکن اب پہلی بار یہ وراثت گنڈولا چلانے کے سرکاری ٹیسٹ میں جیورجیا بوسکولو کی کامیابی کے ذریعے ایک باپ سے اس کی بیٹی کو منتقل ہوئی ہے۔

یہ ٹیسٹ گنڈولا چلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور دو برس پہلے وینس کی بلدیہ کی جانب اس ٹیسٹ کے لیے ایک باقاعدہ کورس کا بھی آغاز کیا گیا تھا۔ جیورجیا نے ٹیسٹ اور کورس کے لیے اندراج سے پہلے گنڈولا چلانے کی تربیت اور مہارت اپنے باپ دانتے سے حاصل کی تھی۔

اب بھی ٹیسٹ میں کامیابی کے باوجود جیورجیا کو باقاعدہ عملی تربیت اور آزمائشی مدت مکمل کرنی ہوگی ، اس کے بعد ہی انہیں وینس کی پتلی پتلی نہروں یا گرینڈ کینال میں اکیلے گنڈولا پھرانے کی باضابطہ اجازت ہوگی۔ گو ان تمام رکاوٹوں کے باوجود جیورجیا خوفزدہ نہیں ہیں لیکن بعض روایت پسندوں کے خیال شائد ہی کبھی کوئی خاتون گیارہ میٹر لمبے اور پانچ سو کل وزنی گنڈولے کو تنہا سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ لیکن گنڈولا ٹیسٹ پاس کرلینے والی جیورجیا کے پاس ایسے لوگوں کے لیے ایک بڑا سیدھا اور مختصر جواب ہے کہ گنڈولا چلانے کے مقابلے میں بچے پیدا کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔