Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 29 june, 2009, 18:50 GMT 23:50 PST

ارب پتی ’فراڈیے‘ کو 150 سال سزا

برنارڈ میڈاف

خاندان کے لیے’شرمناک ماضی‘ چھوڑنے پر معافی کے طلبگار ہیں: برنارڈ میڈاف

امریکہ کی ایک عدالت نے پینسٹھ ارب ڈالر کے مالیاتی فراڈ کے سرغنے برنارڈ میڈاف کو ایک سو پچاس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

برنارڈ میڈوف کی عمر ستر سال ہے اور اب ان کا زندہ جیل سے نکلنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ عدالت میں موجود لوگوں نے برنارڈ میڈاف کو سنائی جانے والی سزا پر تالیاں بجائیں۔

برنارڈ میڈاف نے اعترف جرم کرتے ہوئے عدالت سے کم سزا کی درخواست کی تھی جو عدالت نے قبول نہیں کی۔ جج نے کہا کہ وہ ایک ایسی سزا سنانا چاہتے ہیں جس سے یہ پیغام جائے گا کہ ان کا جرم انتہائی گھناؤنا تھا۔

میڈاف نے عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے سے پہلے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ’شرمناک ماضی‘ چھوڑنے پر معافی کے طلبگار ہیں۔ مالیاتی بحران کے شروع ہوتے ہی نیویارک کے ارب پتی سرمایہ کار برنارڈ میڈوف کا ہیج فنڈ ڈوب گیا تھا۔ اس ہیج فنڈ کی ناکامی کو امریکہ کی تجارتی منڈی وال سٹریٹ کی تاریخ کے بدترین مالی سکینڈلز میں سے ایک ہے۔

دنیا کے بڑے بینک جن کے فنڈ ڈوب گئے ہیں ان میں برطانیہ کا رائل بینک آف سکاٹ لینڈ، سپین کا سینٹینڈیر، فرانس کا بی این پی پاریبا اور شنگھائی بینک شامل ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔