
میر حسین موسوی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے مظاہرے نہ کریں جس سے تناؤ پیدا ہو
ایران میں حزبِ اختلاف کے رہنما میر حسین موسوی نے کہا ہے کہ وہ حالیہ احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کا ذمہ دار صدارتی انتخاب میں ’دھاندلی‘ کرنے والوں کو ٹھہراتے ہیں۔
انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں احتجاجی مظاہرے اس طرح کریں کہ ’جس سے کوئی تناؤ پیدا نہ ہو۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے لوگوں سے ملنے پر مکمل پابندیاں لگائی گئی ہیں اور ان کے میڈیا گروپ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں ذاتی مفاد اور دھمکیوں کے خوف سے ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرنے سے دستبردار نہیں ہوں گا۔‘
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ یہ بیان سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے براہ راست چیلنج ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور ایران کے سرلکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت کی حامی بسیج ملیشیا کے آٹھ اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

صدر احمدی نژاد اس ماہ کے متنازع انتخابات میں دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں
اس سے قبل ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے امریکی ہم منصب براک اوباما سے کہا تھا کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کر دیں۔
امریکی صدر اوباما نے مسٹر احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کی گئی کارروائی پر غم و غصہ کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک سو سے زیادہ ارکان پارلیمان نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی جو صدر احمدی نژاد کی انتخابات میں کامیابی کا جن منانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق تقریب میں تمام دو سو نوے ارکان کو مدعو کیا گیا تھا تاہم ایک سو پانچ ارکان اس میں شریک نہیں ہوئے۔

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکی صدر نے غم و غصہ کا اظہار کیا تھا
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ واقعہ حالیہ متنازع انتخابات سے اعلی سطح پر ہونے والے اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ صدر اوباما کا تبصرہ ان کے پیشرو جارج ڈبلیو بش کی طرح لگتا ہے۔
صدر احمدی نژاد نے کہا کہ اس طرح کی باتوں سے دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔
گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ متنازع صدارتی انتخابات کے سلسلے میں قوم ’دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی‘۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے معاملے پر قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے ملک میں حزب اختلاف کے مظاہروں پر اب بھی پابندی عائد ہے جس کے سبب احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ہونے والی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے مطابق ان مظاہروں میں سترہ افراد ہلاک ہوئے۔
© MMIX