Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 24 june, 2009, 03:34 GMT 08:34 PST

عالمی مالیاتی بحران پر کانفرنس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کانفرنس کا افتتاح کر رہے ہیں

امریکہ کہ شہرنیویارک میں اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی اقتصادی اور معاشی صورتحال اور اس کے ترقی پر اثرات پرایک تین روزہ عالمی کانفرنس شروع ہورہی ہے۔

جنرل اسبملی کی عالمی اقتصادی و معاشی صورتحال پر کانفرنس میں شرکت کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے کئي سربراہان اور ماہرین نیویارک پہنچے ہیں۔

یہ پہلا اجلاس ہے جس میں دنیا کے امیر اور غریب ممالک کو ساتھ بیٹھ کر عالمی مالیاتی بحران پر بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

کانفرنس میں پاکستان کے نمائندگي کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنرمنگل کو نیویارک پہنچے ہیں- کانفرنس میں اقصادی ماہرین کا پینل شامل ہے جس کی تقرری جنرل اسبملی کے صدر نے کی ہے-

اقوام متحدہ میں جنرل اسبملی کے صدر ميگئیل دی ایسکوٹو نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عالمی کساد بازاری کی موجودہ صوترحال میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ اس عالمی اقتصادی بحران لانے میں ان ترقی پذیر ممالک کا کوئي قصور نہیں ہے-

جنرل اسبملی کے صدر نے عالمی بینک کی وہ تازہ پیشنگوئي کا حوالہ دیا جس میں اس نے کہا ہے کہ ان ممالک میں تباہی نا گزیر ہے جنکے پاس اقتصادی کساد بازاری سے بچنے کےلیے کوئي ’سیفٹی نیٹ‘ نہیں ہے۔

اجلاس سے پہلے کئی مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے جنرل اسمبلی کے نکاراگوا سے تعلق رکھنے والے صدر میگیل دی سکوتو پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ اس کانفرنس میں سرمایہ کاری نظام کے خلاف ایک طرح کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں

لیکن جنرل اسبملی کی ویب سائیٹ پر یا د دلایا گیا ہےکہ عالمی بینک نے ترقی پذیر ممالک میں سات سو بلین ڈالر کے ایسے منصوبے منظور کیے ہیں جنکے نتیجے میں سال دو ہزار پندرہ تک پندرہ لاکھ سے لے کر اٹھائیس لاکھ تک شیر خوار بچے موت کا شکار بنیں گے جبکہ ترقی پزیر ممالک میں بحران کے نتیجے میں دس کروڑ لوگ انتہائي غربت کا شکار ہوجائيں گے۔

جنرل اسمبلی کے عالمی معاشی بحران پر اجلاس میں شرکت کےلیے آنے والے سربراہان میں وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز اور بولیویا کے صدر ایو مورالیس بھی شامل ہیں جبکہ امریکہ کی طرف سے صدر اوباما کی شرکت کے بارے میں ابھی نہیں بتایا نہیں گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل اسمبلی کے صدر نے کہا کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ کون کون سے ممالک شرکت کرتے ہیں اہم بات یہ کہ کانفرنس میں کس طرح کے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں-

اقوم متحدہ میں جنرل اسمبلی کا عالمی اقتصادی بحران پر تین روزہ اجلاس گزشتہ برس دسمبر دو ہزار آٹھ میں دوحہ (قطر) میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی معاشی بحران پر کانفرنس کے فیصلے کی روشنی میں ہورہا ہے جس میں ایسی کانفرنس بلانے کی ذمہ داری جنرل اسبملی کے صدر میگوئیل ڈی ایسکوٹو کو سونپی گئي تھی-

اجلاس سے پہلے کئی مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے جنرل اسمبلی کے نکاراگوا سے تعلق رکھنے والے صدر میگیل دیسکوتو پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ اس کانفرنس میں سرمایہ کاری نظام کے خلاف ایک طرح کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔