
فرانسیسی صدر نے برقع پہننے والی خواتین پر تنقید کی ہے
فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی نے اپنے اہم پالیسی خطاب میں برقع پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پہننے سے عورتوں کی حیثیت غلام کی سی ہوجاتی ہے اور اس سے ان کا وقار کم ہوجاتا ہے۔
مسٹر سارکوزی نے ایک پارلیمانی کمیشن کے قیام کی بھی حمایت کی جس کا مقصد اس بات پر غور کرنا ہے کہ آیا عوامی مقامات پر برقع پہننے پر پابندی لگائی جائے۔
دو ہزار چار میں فرانس نے سکولوں میں سکارف پہننے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

مسٹر سارکوزی تقریباً ڈیڑھ سو برس میں پارلیمان سے خطاب کرنے والے پہلے صدر ہیں
صدر سارکوزی نے فرانسیسی پارلیمان کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم اپنے ملک میں ایسی خواتین کو قبول نہیں کرسکتے جو ایک جالی کے پیچھے قید، ہر طرح کی سماجی زندگی سے کٹ اور اپنی شناخت سے محروم ہو کر رہ گئی ہوں‘۔
ان کے بقول یہ جمہوریہ فرانس میں عورتوں کے وقار سے میل نہیں کھاتا۔
مسٹر سارکوزی کا کہنا تھا کہ برقع مذہب کی علامت نہیں بلکہ غلامی کا نشان ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ فرانس میں اسلام کا اسی طرح سے احترام کیا جائے جیسا کہ دوسرے مذاہب کا کیا جاتا ہے۔
تقریباً ڈیرھ سو برس میں کسی بھی فرانسیسی صدر کا پارلیمان سے یہ پہلا خطاب تھا۔ ان کی یہ تقریر گزشتہ برس ایک آئینی ترمیم کے بعد ممکن ہوئی۔
© MMX