Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 23 june, 2009, 10:24 GMT 15:24 PST

برقع پر فرانسیسی صدر کی تنقید

برقع پوش خواتین

فرانسیسی صدر نے برقع پہننے والی خواتین پر تنقید کی ہے

فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی نے اپنے اہم پالیسی خطاب میں برقع پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پہننے سے عورتوں کی حیثیت غلام کی سی ہوجاتی ہے اور اس سے ان کا وقار کم ہوجاتا ہے۔

مسٹر سارکوزی نے ایک پارلیمانی کمیشن کے قیام کی بھی حمایت کی جس کا مقصد اس بات پر غور کرنا ہے کہ آیا عوامی مقامات پر برقع پہننے پر پابندی لگائی جائے۔

دو ہزار چار میں فرانس نے سکولوں میں سکارف پہننے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

صدر نکولس سارکوزی

مسٹر سارکوزی تقریباً ڈیڑھ سو برس میں پارلیمان سے خطاب کرنے والے پہلے صدر ہیں

صدر سارکوزی نے فرانسیسی پارلیمان کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم اپنے ملک میں ایسی خواتین کو قبول نہیں کرسکتے جو ایک جالی کے پیچھے قید، ہر طرح کی سماجی زندگی سے کٹ اور اپنی شناخت سے محروم ہو کر رہ گئی ہوں‘۔

ان کے بقول یہ جمہوریہ فرانس میں عورتوں کے وقار سے میل نہیں کھاتا۔

مسٹر سارکوزی کا کہنا تھا کہ برقع مذہب کی علامت نہیں بلکہ غلامی کا نشان ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ فرانس میں اسلام کا اسی طرح سے احترام کیا جائے جیسا کہ دوسرے مذاہب کا کیا جاتا ہے۔

تقریباً ڈیرھ سو برس میں کسی بھی فرانسیسی صدر کا پارلیمان سے یہ پہلا خطاب تھا۔ ان کی یہ تقریر گزشتہ برس ایک آئینی ترمیم کے بعد ممکن ہوئی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔