
پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تہران میں تعینات ہے
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ گرفتاریوں کا سلسلہ روک دیں اور بنیادی شہری حقوق کی پاسداری کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹی جنرل بان کی مون کے بیان میں ایرانی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوراً مظاہرین کے خلاف دھمکی آمیز اور پر تششد کاررواییاں روک دے۔ انہوں نے ایران کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرے جن میں آزادی اظہار اور آزادی اجماع شامل ہیں۔
بان کی مون کا یہ بیان پیر کو تہران میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد آیا ہے۔

ندآ آقا سطان کی قبر جو سنیچر کو گولی لگنے سے ہلاک ہوئی تھیں
مظاہروں پر پابندی کے باوجود پیر کو ہزار کے قریب افراد ہفتِ تیر سکوائر میں جمع ہوئے تھے۔ صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کو ایسے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم پیر کو پولیس اور مظاہرین میں پھر جھڑیں ہوئیں۔
ادھر ہفتے کے روز احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والی ایک خاتون ندآ آقا سلطان کے منگیتر نے بتایا ہے کہ حکام نے مرحومہ کے خاندان کو تہران کی ایک مسجد میں ان کی یاد میں تقریب منعقد کرنے سے روک دیا ہے ۔کسپیان مکان کے مطابق مذہبی حکام اور بسیج ملیشیا نے خاندان کو اس لیے اس تقریب سے روکا ہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ کہیں ندآ آقا سلطان اس تحریک کی الامت اور شہید کے طور پر الامت نہ بن جائیں۔ ان کی خونی تصویر پہلے ہی فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچ چکی ہے۔
© MMIX