Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 22 june, 2009, 14:53 GMT 19:53 PST

ایران میں مظاہروں پر پابندی کے باوجود جھڑپیں

پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ پر وارننگ جاری کی ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ انقلابی انداز میں نمٹا جائے گا۔

ایران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی وارننگ کے باوجود کہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، پولیس اور مظاہرین میں پیر کو پھر جھڑیں ہوئی ہیں۔پاسدارانِ انقلاب ایران کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہے اور اس کی ویب سائٹ پر واضح طور پر یہ وارننگ دی گئی تھی کہ مظاہرین مزید احتجاج سے گریز کریں۔ مظاہرین کو خبردار کیا گیا تھا کہ احتجاج کی صورت میں انہیں انقلابی ’جواب‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق تقریبا ایک ہزار مظاہرین دوبارہ تہران کے مرکزی چوک میں جمع ہوئے۔ اس سے قبل ایران میں شورٰیِ نگہبان نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پچاس اضلاع میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ شورٰی کے مطابق ان بے قاعدگیوں سے صداراتی انتخاب کے نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔

سنیچر کو پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ بلا اجازت مظاہرے کرنے والے سے انقلابی انداز سے نمٹا جائے گا۔

جمعہ کو آیت اللہ علی خامنہ ای نے احتجاج پر پابندی لگا دی تھی جس کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں دس افراد مارے گئے تھے۔

سفارتی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے ایران کی غیر معمولی صورتِ حال کے بارے میں کتنے ہی تجزیے ہو چکے ہیں لیکن اب بھی کسی کو علم نہیں کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ جمعہ کو سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نےسمجھوتے کی جھلک سے عاری اپنی تقریر میں انتخابی نتائج کو درست قرار دیا اور اصرار کیا کہ اگر خونریزی شروع ہوگئی تو مظاہرین اور ان کے رہنما اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

سنیچر کو مظاہروں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور تشدد بھی زیادہ ہوا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ لیکن اسی روز یعنی سنیچر ہی کو میر حسین موسوی نے کہ جن کے ساتھ مظاہروں کی سرپرستی وابستہ ہوگئی ہے، ایرانی عوام کے نام ایک یادگار خط جاری کیا۔اس خط میں انہوں نے کہا کہ ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ اس خط سے پہلی بار واضح طور پر یہ لگتا ہے کہ موسوی جو اس بحران اور اس سے متعلق رائے عامہ کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، اب احتجاج کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں سے احتجاج کا موقع بھی چھین لیا گیا تو پھر آگے تو خطرناک راہیں پڑی ہیں۔

اتوار کو تہران کی سڑکوں پر سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے اور نتیجتاً بظاہر کوئی بڑے مظاہرے بھی نہیں ہوئے۔ لیکن میر حسین موسوی نے سپریم رہنما کی بات نہ ماننے کا اشارہ دے دیا ہے۔لہذا یہ کشمکش ابھی تمام نہیں ہوئی۔

ادھر برطانوی ٹھِنک ٹینک چیٹم ہاؤس اور ایک سکاٹِش یونیورسٹی کی طرف کیے جانے والے ایک تجزیے کے مطابق ایران میں حال ہی میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کے ٹرن آؤٹ میں ’بےضابطگیاں‘ پائی گئی ہیں اور صدر محمود احمدی نژاد کے حق میں ووٹوں کا، بقول ان کے، ’غیر یقینی‘ سوِنگ دیکھا جا سکتا ہے۔

صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد نے بارہ جون کو بھاری اکثریت کے ساتھ فتح حاصل کی تھی۔ تاہم اس آزاد تحقیق میں اس حکومتی موقف پر سوال اٹھائے گئے ہیں جس کے مطابق احمدی نژاد کی فتح ایران کے دیہی علاقوں میں رہنے والے ان متعدد ’سخت گیر‘ ووٹروں کی وجہ سے ہوئی جو روایتی طور پر انتخابات میں حصہ نہیں لیا کرتے تھے۔

اس رپورٹ میں ایرانی صدارتی انتخابات کے حوالے سے جاری کیے گئے حکومتی اعداد وشمار کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کچھ حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو صوبوں کے لیے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق وہاں سو فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جبکہ چار دیگر صوبوں میں دس میں سے نو سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالے۔


سینٹ اینڈروز یونیورسٹی اور چیٹم ہاؤس کے تجزیہ نگار ان نتائج کے تفصیلی معائنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ووٹوں کی بظاہر بڑھتی تعداد اور محمود احمدی نژاد کی بڑھتی مقبولیت کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد وشمار اسی صورت میں صحیح ہو سکتے ہیں اگر محمود احمدی نژاد کو ایران کے ایک تہائی صوبوں میں تمام سخت گیر ووٹ، تمام نئے ووٹ اور اصلاح پسندوں کے چالیس فیصد ووٹ ملے ہوں۔


رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں اصلاح پسندوں اور سخت گیروں کے درمیان شدید اختلافات کے پیش نظر ایسا ہونا کافی مشکل نظر آتا ہے۔تجزیہ نگاروں نے ایران کے دیہی علاقوں میں رہنے والوں اور اقلیتی طبقوں میں محمود احمدی نژاد کی بظاہر بڑھتی مقبولیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں دیکھے جانے والے رجحانات کے مطابق محمود احمدی نژاد دیہی علاقوں میں غیر مقبول تھے اور اس بنا پر یہ نتائج کافی حد تک ’غیر یقینی‘ ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔