
آن سان سوچی پر حال ہی میں برمی حکومت نے نیا مقدمہ قائم کیا ہے
برما کی نظر بند خاتون سیاسی رہنما آن سان سو چی کی چونسٹھویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں دعائیہ تقاریب اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
اس موقع پر یورپی یونین نے ان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے اور انہیں رہائی دلانے کی آن لائن درخواست پر مصنف سلمان رشدی کے علاوہ جارج کلونی اور جولیا رابرٹس جیسے ہالی وڈ اداکاروں نے دستخط کیے ہیں۔
.آن سان سو چی کی سالگرہ کے موقع پر جنیوا سے لے کر کوالالمپور تک کم از کم بیس شہروں میں ان کی رہائی کے لیے مظاہرے منعقد ہو رہے ہیں۔
بنکاک میں بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کے مطابق اس سلسلے کی اہم تقریب برما کے دارالحکومت رنگون میں آن سان سو چی کی جماعت کے ہیڈکوراٹر میں بھی منعقد ہوئی جس میں ان کے حامیوں نے فضا میں غبارے اور پرندے چھوڑے اور بدھ بھکشوؤں کو کھانا کھلایا۔
برما کے فوجی حکمرانوں نے قریباً انیس برس سے امن نوبل انعام یافتہ آن سان سو چی کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور گزشتہ تیرہ برس سے وہ چند مخصوص افراد کے علاوہ کسی سے بھی نہیں مل سکتیں۔اس وقت ان پر نظربندی کے ضٰوابط کی خلاف ورزی کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ یہ مقدمہ ان پر اس وقت قائم کیا گیا جب ایک امریکی شخص تیر کر ان کے گھر تک پہنچا اور وہاں ایک رات قیام پذیر رہا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد محترمہ آن سان سو چی کو برما میں آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے بعد تک مقید رکھنا ہے۔ مقدمے کے دوران آنگ سان سو چی رنگون کی انسین جیل میں قید ہیں۔ یہ جیل سیاسی قیدیوں کے مرکز کے طور پر جانی جاتی ہے۔
© MMIX