
آن سان سو چی کو فوجی حکام نے برسوں سےگھر میں نظر بند کیا ہوا ہے
برما کی اپوزیشن راہنما آن سان سوچی پرایک امریکی شہری کو اپنےگھر میں رکھنے پر مقدمہ کے سماعت کے لیے جب پیش کیا گیا تو وہ بہت ہی پرسکون اور پرجوش نظر آئیں۔
یہ بات برما میں برطانوی سفارت کار مارک کیننگ نے بتائی ہے ۔ انہوں نے اس سماعت میں شرکت کی تھی۔
مارک کیننگ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا جس میں سفارتکاروں اور صحافیوں کو سماعت میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن انکا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں نتائج پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ مسٹر کیننگ نے بی بی سی کو بتایا ' یہ سماعت تقریبا ایک گھنٹہ چلی جس میں ایک پولیس افسر بطور سرکاری گواہ پیش ہوا'۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سوچی پرسکون، اور پرجوش نظر آئیں۔ انکا مزید کہناتھا کہ سوچی تھوڑی دیر کے لیے سفارتکاروں سے مخاطب ہوئیں اور امید ظاہر کی کہ اگلی ملاقات بہتر ماحول میں ہوگی۔اسکے کے بعد وہ تین بیرونی اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ کرنے چلی گئیں جس میں سنگاپور، روس اور تھائی لینڈ کے اہلکار شامل تھیں۔
مسٹر کیننگ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سماعت کے دوران انہیں موجود رہنے کی اجازت مزید جاری رہے گی۔
انکا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسکا اختتام پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔
اس سے پہلے برمی اہلکاروں نے سماعت کے وقت صرف دس مقامی اور بیرونی صحافیوں کو موجود رہنے کی اجازت دی تھی لیکن اس دوران ویڈیو اور فوٹو لینے پر پابندی عائد تھی لیکن بعد میں مختلف ممالک کے سفارتخانوں کو یہ پیغام بھیجا گیا تھا کہ وہ اپنا ایک نمائندہ بھیج سکتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ سماعت انتہائی سیکورٹی والی جیل بھی ہورہی ہے ۔
بین الاقوامی کی برادری کی جانب سے شدید تنقید کا شکار یہ مقدمہ پیر کو بند دروازوں کے پیچھے شروع ہوا تھا۔
آن سان سوچی پرایک امریکی شہری کو اپنےگھر میں رکھنے پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔یہ امریکی ان کے گھر کے قریب واقع جھیل تیر کر پار کرنے کے بعد ان کے گھر پہنچا تھا۔
آن سان سوچی پر لگائے گئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔
سوچی نے پچھلے انیس برسوں میں سے تیرہ برس نظر بندی میں گزارے ہیں۔ اگر ان پر یہ الزام ثابت ہو گیا تو انہیں تین سے پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ ان پرانتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
جُنتا نے سنہ 2010 میں انتخابات کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو بیس برس میں پہلے انتخابات ہوں گے۔
یہ مقدمہ اتنی جلد بازی اور رازداری میں چلایا جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں کئی حکومتوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں ایک خیر خواہ بغیر بلائے رنگون میں آن سان سوچی کےگھر کے پچھلے باغیچے میں چلا آیا۔وہاں تک پہنچنے کے لیے اس نے جھیل تیر کر پار کی تھی۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ سوچی نے نظر بندی کی کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی اور وہ ان الزامات سے انکار کریں گی۔سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شخص کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا تھا لیکن اس نے کہا کہ وہ بہت تھک چکا ہے اس لیے اسے رات وہاں ٹھہرنے کی اجازت دے دی گئی۔
وکیل کا کہنا ہے کہ محترمہ سوچی کا گھر رنگون کے ان مقامات میں سے ایک جہاں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ فوجی حکام نے ہی اس شخص کو وہاں بھیجا ہوگا جیسا کہ گزشتہ نومبر میں بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس واقعہ نے اب فوجی حکومت کو ایک بہانہ دے دیا ہے جس کا استعمال کر کے وہ ملک کی سب سے اہم اور ممتاز راہنما کو ایک ایسے موقع پر قید رکھ سکتی ہے جب کے ملک عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔
© MMX