Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 2 may, 2009, 13:54 GMT 18:54 PST

ایران میں دی گئی پھانسی پر سخت احتجاج

درابی

درابی کی پینٹنگ کے سبب اس مقدمے کو بین الاقوامی سطح پر نوٹس میں لیا گیا تھا

انسانی حقوق کی تنظمیوں نے ایران میں ایک خاتون کو پھانسی دیئے جانے پر زبردست احتجاج کیا ہے۔

اس خاتون کو قتل کی سزا دی گئی ہے جو اس نے مبینہ طور پر تب کیا تھا جب وہ سترہ برس کی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے دلیرہ درابی کو پھانسی دیئے جانے سے کافی افسوس ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مقدمے کی شفاف شنوائی نہيں ہوئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب درابی کے وکیل نے نئے شواہد پیش کیےتو عدالت نے ان پر غور نہیں کیا۔ ان شواہد کی مدد سے یہ ثابت ہو جاتا کہ درابی یہ قتل کر ہی نہیں سکتی تھیں۔

ایران کی عدلیہ کے سربراہ نے حال ہی میں ان کی پھانسی کے سلسلے میں دو مہینے کے لیے حکمِ امتناعی جاری کیا تھا لیکن خاتون کے وکیل کے مطابق جیل کے اہلکاروں نے اس حکم کو نظرانداز کر دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے تہران سے بتایا ہے کہ جمعہ کو صبح دلیرہ درابی نے اپنے والدین کو فون کیا اور کہا کہ وہ جلاد کی ہاتھ میں پھانسی کا پھندہ دیکھ سکتی ہیں۔ جیل کے ایک اہلکار کی جانب سے اس سے فون چھیننے سے قبل درابی نے کہا ’ماں وہ مجھے پھانسی دینے جا رہے ہیں، مجھے بچایئے۔‘ تاہم اس اہلکار نے کہا ’ہم آپ کی بیٹی کو پھانسی دینے جا رہے ہيں اور اس سلسلے میں کچھ نہيں کیا جا سکتا۔‘

دلیرہ درابی، جو پیشے کے لحاظ سے ایک مصورہ ہیں، نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بوائے فرنڈ کو بچانے کے لیے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔

یہ مقدمہ اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنا جب اس خاتون کے جیل میں تخلیق کیے گئے فن پاروں کو بین الاقوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔