آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 22 april, 2009, 13:24 GMT 18:24 PST

کوئی الزام نہیں، پاکستانی طلباء رہا

برطانوی پولیس

برطانیہ کی مسلم کونسل نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرے

برطانوی پولیس نےان تمام بارہ طالب علموں کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا ہے جنہیں بم دھماکہ کرنے کی ایک مشتبہ سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم گیارہ طلبا کو جو پاکستانی شہری ہیں برطانیہ کی بارڈر ایجنسی کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جہاں سے انہیں ممکنہ طور پر واپس ان کے وطن روانہ کر دیا جا ئے گا۔

مانچیسٹر پولیس کے چیف کانسٹیبل پیٹر فیے نے اس معاملے کو ’انتہائی پیچیدہ‘ انکوائری قرار دیتے ہوئے پولیس کے اقدام کا دفاع کیا اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں ’نہ پشیمانی ہوئی ہے اور نہ وہ تذلیل محسوس کر رہے ہیں۔‘

تاہم برطانیہ کی مسلم کونسل نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرے۔

برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کے ترجمان نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے: ’ہم ان افراد کو قومی سلامتی کی وجوہات پر برطانیہ سے واپس بھیجنا چاہ رہے ہیں۔ حکومت کی سب سے اولین ترجیح عوام کا تحفظ ہے۔ جب اور جہاں کوئی غیر ملکی، برطانیہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہو، تو جہاں مناسب ہوگا ہم ایسے شخص کو برطانیہ سے نکالنا یا برطانیہ بدر کرنا چاہیں گے۔‘

تاہم ان طلبا کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کےمؤکلین پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا اور وہ بے گناہ ہیں۔

ان بارہ افراد کو لیورپول، مانچیسٹر اور لنکاشائر سے گرفتارکیا گیا تھا اوران میں سے گیارہ کا تعلق پاکستان سے ہے جن میں سےدس کے پاس طالب علموں کو ملنے والا ویزا ہے۔ ایک کا تعلق برطانیہ سے ہے۔

ہمارے مؤکلین جرائم پیشہ نہیں اور وہ سٹوڈنٹ ویزے پر یہاں آئے تھے اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر کام کر رہے تھے۔ ہمارے مٰؤکلین نہ انتہا پسند ہیں اور نہ دہشت گرد۔

طلباء کے وکیل

کراؤن پروسیکیوشن سروس نے یہ فیصلہ کیا تھاکہ ان افراد کے خلاف الزام کے لیے ثبوت ناکافی تھا لہذا انہیں زیادہ دیر تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اس اقدام سے کوئی پشیمانی نہیں کیونکہ پولیس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔

تاہم گیارہ میں سے تین طلبا کی نمائندگی کرنے والے وکیل محمد ایوب کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکلین کو تیرہ دن تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور ان پر کوئی بھی الزام عائد نہیں کیا جا سکا۔

’ہمارے مؤکل جرائم پیشہ نہیں اور وہ طلبا کو دیے جانے والے ویزے پر یہاں آئے تھے اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر کام کر رہے تھے۔ ہمارے مٰؤکلین نہ انتہا پسند ہیں اور نہ دہشت گرد۔‘

برطانیہ میں مسلم کونسل کے عنایت بنگلاوالیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اور جس ڈرامائی انداز میں یہ گرفتاریاں ہوئیں، اس سے عوام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ان افراد سے خطرہ تھا۔انہوں نے کہا کہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ حکومت گرفتار شدگان کے لیے ابتدا سے ہی اس قسم کے متعصبانہ کلمات کہے اور پھر ناکافی ثبوت کی بنا پر ان پر کوئی الزام عائد نہ کیا جائے لیکن انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔

حراست میں لیے گئے طلبہ میں سے ایک محمد رمضان کے والد حضرت علی نے حکومت پاکستان سے شکایت کی ہے کہ انہیں ان کی جانب سے محض تسلی کا ایک فون بھی نہیں آیا ہے۔ ان کا تعلق وزیرستان سے ہے لیکن وہ کراچی میں رہتے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں حراست میں لیے گئے پاکستانی طلبہ کی ملک بدری کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ برطانوی حکام سے مزید معلومات ملنے کا انتظار کر رہے ہیں اور ابھی انہیں ان طلبہ کو ملک بدر کرنے کے بارے میں کوئی باضابطہ سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے۔

ترجمان نے تصدیق کی کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے نے ان دس طلبہ میں سے سات طلبہ سے ملاقات کر لی ہے لیکن ابھی برطانوی سرحدی ایجنسی کی جانب سے کسی فیصلے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر برطانوی حکومت طلبا کو ملک بدر کرتی ہے تو اس فیصلے کے خلاف طلبا کو اپیل کا بھی حق حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان طلبہ کو برطانیہ کی سرحدی سکیورٹی ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے طلبہ میں سے ایک محمد رمضان کے والد حضرت علی نے حکومت پاکستان سے شکایت کی ہے کہ انہیں ان کی جانب سے محض تسلی کا ایک فون بھی نہیں آیا ہے۔ ان کا تعلق وزیرستان سے ہے تاہم وہ کراچی میں رہتے ہیں۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کا اصولی موقف رہا ہے کہ اگر ان طلبہ کے خلاف کوئی شواہد موجود ہیں تو ان کے خلاف عدالت میں کارروائی کی جائے جس میں پاکستان ان کی بھرپور مدد کرے گا۔ ’اگر ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے تو ان کو رہا کر دیا جانا چاہیے اور انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے دیا جانا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ طلبہ اگر ملک بدری کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کرسکتے ہیں جس کا ایک قدرے لمبا سلسلہ ہے۔ ماضی میں برطانیہ کو اسی طرح کے ایک کیس میں ایک شخص کو ملک بدر کرنے میں پانچ برس کا وقت بھی لگ گیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اگر یہ طلبہ ملک بدری کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنا چاہیں تو وہ ان کی پوری مدد کرنے کو تیار ہیں۔


bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔