لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان کی تمامتر سیکیورٹی انتظامیہ اس مفروضے پر سوچنا اور کام کرنا شروع ہو گئی کہ ہو نہ ہو، ان حملوں میں کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہے۔
پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں کی توجہ خصوصی طور پر لاہور کے حملے اور پچھلے سال ممبئی میں ہونے والے حملوں میں مماثلت تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔
اسلام آباد میں سینئیر سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فوری شواہد کی بنیاد پر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس نوعیت کا حملہ کسی بیرونی تنظیمی، منصوبہ بندی اور مالی تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اور ان کے مطابق اس حملے میں یہ بیرونی طاقت بھارت کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتی۔
یہ سیکیورٹی اہلکار بنیادی طور پر چار عناصر کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان کے تجزیے کے مطابق سیدھا بھارت کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
پہلا یہ کہ لاہور حملہ تقریباً ممبئی کا چربہ تھا۔ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا حملہ جس میں درجن بھر لوگ ملوث ہوں اور بنیادی طور پر ان کی نیت حملے کے بعد بچ نکلنے کی ہو، پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے زیادہ تر حملے خود کش نوعیت کے رہے جن کا تانا بانا پاکستان کے قبائلی علاقوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق جامعہ حفصہ کے واقع کے علاوہ پاکستان میں انتہا پسندی کا ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں اتنی بڑی تعداد میں انتہا پسندوں نے حصہ لیا۔
اس حملے کا دوسرا عنصر وہ ہتھیار ہیں جو حملہ آوروں کے استعمال میں تھے۔ ان میں چھوٹے پستول، خود کار کلاشنکوف بندوقیں، ہینڈ گرینیڈ، راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز مواد بھی شامل تھا۔ پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق حملہ آوروں کے ایک ہی گروہ کے لیے طرح طرح کے ہتھیار اکٹھے کرنا انتہائی پرخطر کام ہوتا ہے اور اس کاوش میں پکڑے جانے کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عام طور پر ایسی کاروائیوں میں ملوث افراد ایسا رسک نہیں لیتے۔
یہ بات کئی بھارتی اخبارات میں رپورٹ کی گئی کہ بھارت سری لنکا پر دورہ منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکار سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف کی جانے والی حالیہ فوجی کاروائیوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں جو انتہائی موثر ثابت ہوئیں لیکن ۔۔۔
سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے لاہور حملے کا تیسرا توجہ طلب عنصر حملہ آوروں کا اپنے ہتھیاروں پر مکمل اختیار تھا۔ پاکستان کے مقامی ٹیلیوژن چینلز پر دکھائی جانے والی تصاویر کے مطابق یہ حملہ آور انتہائی اعتماد سے اپنے ہتھیار استعمال کر رہے تھے اور صاف ظاہر تھا کہ انہیں خود کار ہتھیاروں کے استعمال کے وقت متحرک رہنے کی باقاعدہ تربیت ملی ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی انتظامیہ کی چوتھی دلیل کچھ یوں ہے کہ بھارت پہلے دن سے ہی سری لنکا کے دورہ پاکستان کے خلاف تھا۔ یہ بات کئی بھارتی اخبارات میں رپورٹ کی گئی کہ بھارت سری لنکا پر دورہ منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکار سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف کی جانے والی حالیہ فوجی کارروائیوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں جو انتہائی موثر ثابت ہوئیں لیکن ان کے مطابق تمل باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائیوں سے پہلے بھارت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کا اسے رنج تھا۔
گو لاہور حملوں کے کئی دن بعد تک ان حملوں میں ملوث افراد یا گروہوں کی شناخت کے بارے میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ جلد ہی وہ ان حملوں کے بعد کی گئی گرفتاریوں کی مدد سے ان میں بھارتی ہاتھ کے ناقابل تردید ثبوت پوری دنیا کو فراہم کر دیں گے۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ غیر جانبدار تجزیہ کار پاکستان کی اس سوچ کو نہ صرف بعید از قیاس بلکہ انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایڈیٹر وحید مرزا کا کہنا ہے کہ بھارتی انتظامیہ اپریل مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ہرگز یہ نہیں چاہے گی کہ اس کی کسی بھی حرکت سے بھارت میں امن و عامہ کی صورتحال غیر مستحکم ہو۔ انڈیین پریمئیر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد سے متعلق سیکیورٹی خدشات اس امر کا ایک واضح ثبوت ہیں۔

مسٹر مشرف کا کہنا تھا کہ اب دونوں ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اپنی جنگ بند کر دینی چاہئیے۔
برطانوی مبصر بینیڈکٹ وہٹم سمتھ کا کہنا ہے کہ اگر لاہور کے حملہ آوروں میں سے اجمل قصاب کی طرح ایک حملہ آور بھی پکڑا جاتا تو ممبئی حملوں کے بعد بھارت کو ملنے والی بین الاقوامی ہمدردی مکمل طور پر ذائل ہو جاتی۔ نہ صرف یہ بلکہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملوں میں بھارت کے خلاف کوئی بھی واضح ثبوت ایک بین الاقوامی سکینڈل بن جاتا جس کے بعد بھارت بھی انہیں ریاستوں کی صف میں آ کھڑا ہوتا جو دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے مہرے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
لاہور حملوں میں کون ملوث ہے اور کون نہیں یہ تو شاید کبھی بھی پتہ نہ چل پائے لیکن ان حملوں کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی انتظامیہ میں ابھرنے والی سوچ نے ایک امر بالکل واضح کر دیا ہے اور وہ یہ کہ سفارتی سطح پر بھارت اور پاکستان میں قیام امن کی کاوشیں چاہے کتنا بھی زور کیوں نہ پکڑ جائیں، دونوں ممالک کی سیکیورٹی انتظامیہ ایک مسلسل حالت جنگ میں ہی رہیں گی۔
امریکی جریدے نیو یارکر کے ایک حالیہ شمارے میں صحافی سٹیو کول لکھتے ہیں کہ پرویز مشرف کے اقتدار سے اخراج سے ذرا قبل پاکستان اور بھارت میں پس پشت سفارتکاری کے ذریعے کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور کو حل کرنے کے فارمولے پر تقریباً اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ دو مارچ کے شمارے میں دی بیک چینل کے عنوان سے شائع ہونے والے اس مضمون میں سٹیو کول کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے طارق عزیز اور بھارت کی جانب سے ستندر لامبا نے کئی سال کی کاوشوں کے بعد ایک غیر رسمی معاہدہ یا نان پیپر تیار کیا تھا جس پر پاکستان کے صدر اور بھارتی وزیر اعظم دونوں ہی متفق تھے۔
تاہم مارچ دو ہزار سات کے عدالتی بحران کے بعد پرویز مشرف کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کے پیش نظر اس نان پیپر کو فی الحال پس پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس غیر رسمی معاہدے کا طے پا جانا بہرحال دونوں ممالک کے مابین قیام امن کی کوششوں میں ایک بے مثل کامیابی سمجھا جا رہا تھا۔
ان حملوں کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی انتظامیہ میں ابھرنے والی سوچ نے ایک امر بالکل واضح کر دیا ہے اور وہ یہ کہ سفارتی سطح پر بھارت اور پاکستان میں قیام امن کی کاوشیں چاہے کتنا بھی زور کیوں نہ پکڑ جائیں، دونوں ممالک کی سیکیورٹی انتظامیہ ایک مسلسل حالت جنگ میں ہی رہیں گی۔
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ پس پردہ سفارتکاری میں ایسی بے مثال پیش رفت کا دونوں ملکوں کی سیکیورٹی انتظامیہ پر ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل پر حملے کا تانا بانا بھی بھارت سے جوڑا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ جس طرح بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مبینہ طور پر پشت پناہی کر رہا ہے اسی طرح اس نے ملک کی انتہا پسند مذہبی جماعتوں میں بھی اپنے ایجنٹ تیار کر رکھے ہی۔ پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بھارتی ایجنٹ افغانستان میں بھی فعال ہیں اور پاکستان میں بھی۔
جوہری ہتھیاروں سے لیس جنوبی ایشیا کے ان ہمسایہ ممالک کی سیکیورٹی مشینری کی اس غیر اعلانیہ جنگ کی ایک جھلک پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے اس بیان میں بھی ملتی ہے جو انہوں نے اپنے حالیہ دورہ بھارت میں دیا۔ مسٹر مشرف کا کہنا تھا کہ اب دونوں ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اپنی جنگ بند کر دینی چاہئیے۔
اس تناظر میں لاہور کے حملے ایک واقعہ کی بجائے ایک تسلسل کی کڑی نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ اس تسلسل میں کوئی حقیقت بھی ہو۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں ہونے والی انتہا پسندی کو مسلسل ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں عین ممکن ہے کہ اگر اس بظاہر تسلسل کی ایک کڑی میرئیٹ ہوٹل تھی، دوسری ممبئی اور تیسری لاہور تو پھر اس کی اگلی کڑی کا سایہ ہمیں بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں نظر آئے۔