BBC navigation

آرکائیو کیا گیا
پاکستان کی شکست، سری لنکا فائنل میں: لائیو اپ ڈیٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 16:54 GMT 21:54 PST
تازہ ترین اپ ڈیٹ دیکھنے کے لیے صفحہ ریفریش کریں یا جاوا سکرپٹ آن کریں
  1. سری لنکا میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نے ٹاس جیت پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

  2. اس وقت کریز پر جے وردھنے اور دلشان موجود ہیں اور سری لنکا نے 8 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 44 رنز بنائے ہیں۔

  3. پاکستان کی ٹیم میں عبدالزاق کی جگہ سہیل تنویر کو شامل کیا گیا ہے جبکہ سری لنکا نے رنگانا ہیراتھ کو شامل کیا ہے۔

  4. اس وقت کریز پر جے وردھنے اور دلشان موجود ہیں اور سری لنکا نے دس اوورز میں بغیر کسی نقصان کے باسٹھ رنز بنائے ہیں۔

  5. اوپنر جے وردھنے شاہد آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے بیالیس رنز سکور کیے

  6. سنگاکارا کے خلاف سٹمپ کی اپیل

     

  7. تھرڈ امپائر نے فیصلہ دیا ناٹ آؤٹ

  8. سری لنکا کے بیٹسمین سنگاکارا اٹھارہ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کا کیچ محمد حفیظ کی گیند پر شعیب ملک نے پکڑا۔

     

  9. سری لنکا نے دو کھلاڑیوں کے نقصان پر پندرہ اوورز میں ایک سو رنز مکمل کر لیے۔

  10. سترہویں اوور کے اختتام پر سری لنکا نے دو وکٹوں کے نقصان پر ایک سو چودہ رنز بنائے ہیں۔ اوپنر دلشان چالیس گیندوں میں چبنتیس رنز بنائے ہیں۔

  11. ایک سو پندرہ کے سکور پر سری لنکا کے جیون مینڈس عمر گل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے لیکن تھرڈ امپائر نے اس گیند کو پاؤں لائن سے آگے ہونے کے باعث نو بال دے دی۔ سری لنکا کو فری ہٹ

  12. عمر گل کی دلشان کو بال اور ایل بی ڈبلیو کی زور دار اپیل۔۔۔۔

  13. اور اس بار ایل بی ڈبلیو کی اپیل کامیاب اور دلشان 43 گیندوں میں پینتیس رنز بنا کر آؤٹ۔

  14. انیسویں اوور کی پہلی گیند۔ سعید اجمل کی وائیڈ گیند لیکن جیون مینڈس آؤٹ۔ وہ کریز سے باہر نکلے اور کامران اکمل نے انہیں سٹمپ کردیا۔

  15. سری لنکا کا سکور ایک سو چودہ اور چار کھلاڑی آؤٹ

     

  16. عمر گل آخری اوور کرا رہے ہیں۔ پریرا اور میتھوز اس اوور سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے اس اوور میں سولہ رن بنائے۔

  17. سری لنکا نے مقررہ بیس اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 139 رنز سکور کیے جس میں کُل سترہ چوکے شامل ہیں۔

  18. پاکستان کو جیتنے کے لیے ایک سو چالیس رنز کا ہدف۔

  19. پاکستان کی جانب سے سعید اجمل، محمد حفیظ، عمر گل اور شاہد آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

  20. پاکستان کی جانب سے کپتان محمد حفیظ اور عمران نذیر اوپنرز آئے ہیں۔

  21. پاکستان کو فائنل میں پہنچنے کے لیے ایک سو چالیس رنز درکار۔

  22. اگر بیٹنگ سائیڈ کو ایک اچھا آغاز مل جائے تو فیلڈنگ پر پریشر بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے مہیلا کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کو سپنرز کے ذریعے روک کر رکھیں اور پاکستان پر دباؤ بڑھائیں۔

  23. میرے خیال میں سری لنکا کو ملنگا ہی کو سٹرائیک بالر کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ملنگا کی جانب سے گیند کی رفتار تبدیل کرنے سے سری لنکا کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔

  24. پانچویں اوور کے اختتام پر پاکستان نے چھبیس رنز بنائے ہیں۔ عمران نذیر سولہ اور محمد حفیظ دو رنز پر کھیل رہے ہیں۔

  25. پاکستان کو پہلا نقصان۔ عمران بیس رنز بنا کر مینڈس کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اگلے بیٹسمین ناصر جمشید ہیں۔

  26. محمد حفیظ کی اونچی شاٹ اور ہیراتھ کی کیچ کی کوشش لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔

  27. آٹھ اعشاریہ دو اوورز میں پاکستان کی نصف سنچری مکمل۔

  28. پاکستان کو دوسرا نقصان۔ ناصر جمشید آٹھ گیندوں میں چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کو میتھیوز نے ایل بی ڈبلیو کیا۔

  29. میتھیوز کی دوسری وکٹ۔ کامران اکمل دوسری ہی گیند پر کیچ آؤٹ۔

  30. دس اوورز کے اختتام پر پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر ستاون رنز بنائے ہیں۔

  31. سابق کپتان شعیب ملک ہیراتھ کی گیند پر بولڈ۔ پاکستان چونسٹھ رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا ہے۔ فائنل میں پہنچنے کے لیے پاکستان کو مزید 76 رنز درکار۔

  32. محمد حفیظ کو ایک موقع ملا جب ان کا ایک آسان کیچ ملنگا نے ڈراپ کر دیا۔ حفیظ اس وقت پچیس کے سکور پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔

  33. پاکستان کی آدھی ٹیم پویلین واپس۔ کپتان محمد حفیظ 42 رنز بنا کر سٹمپ ہو گئے۔

  34. آل راؤنڈر شاہد آفریدی پہلی گیند پر بولڈ۔ پاکستان کے چھ کھلاڑی آؤٹ۔ پاکستان کو مزید 49 رنز درکار۔

  35. شاہد آفریدی پہلی گیند پر اس دن آؤٹ ہوئے جب انہوں نے سولہ سال قبل تیز ترین سنچری سکور کی تھی۔

  36. پاکستان کو فائنل میں پہنچنے کے لیے چھ گیندوں میں چوبیس رنز درکار۔ عمر اکمل اور عمر گل وکٹ پر۔

  37. سری لنکا پاکستان کو سولہ رنز سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ دوسرا سیمی فائنل جمعہ کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ پاکستان نے مقررہ بیس اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر ایک سو تئیس رنز سکور کیے۔

     

  38. مجھے بہت فخر ہے جس طرح ٹیم کھیلی ہے۔ ہر کھلاڑی نے سو فیصد پرفارمنس دی فیلڈ میں۔ بہتر ٹیم کی جیت ہوئی۔ ہمارا مڈل آرڈر کھیل نہیں سکا اور ہم پارٹرشپ نہیں بنا سکے۔

  39. یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ہم شائقین کی سپورٹ کے بےحد مشکور ہیں کیونکہ تمام شائقین ہمارے لیے بارہویں کھلاڑی کی طرح تھے۔ پاکستان کے پاس دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین بہت ہیں اور ہمیں بائیں ہاتھ سے بالنگ کرانا والا بولر چاہیے تھا اس لیے ہم نے رنگنا ہیراتھ کو کھلایا۔ ہم نے فیلڈ میں کچھ غلطیاں کیں لیکن شکر ہے وہ غلطیاں ہمیں مہنگی نہیں پڑیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔