
دانش کنیریا نے سن دو ہزار پانچ میں ایسکس کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل، پاکستانی اور برطانوی کرکٹ بورڈز نے مشترکہ طور پر تردید کی ہے کہ کرکٹر دانش کنیریا کو کلیئرنس سرٹیفیکیٹ دیا گیا ہے۔
یہ بات آئی سی سی، پی سی بی اور برطانوی کرکٹ بورڈز نے ایک مشترکہ بیان میں کہی ہے۔
یہ بیان دانش کنیریا کے اس بیان کے بعد دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان پر سپاٹ فکسنگ کا الزام سراسر جھوٹ ہے اور ایسکس پولیس، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل انہیں سپاٹ فکسنگ میں ملوث نہ ہونے کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ جاری کر چکا ہے۔
ایسکس پولیس نے دو ہزار دس میں دانش کنیریا اور کاؤنٹی ٹیم میں ان کے ساتھی ویسٹ فیلڈ کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے دانش کنیریا کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا تھا۔
پیر کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں پی سی بی کا کہنا ہے کہ ایسیکس کے کھلاڑی مرون ویسٹفیلڈ کے فیصلے کے بعد دانش کنیریا کو دوبارہ انٹیگریٹی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا جائے گا۔
پی سی بی نے اس بیان میں کہا ہے کہ کنیریا کا معاملہ انٹیگریٹی کمیٹی کے سامنے ہے اور اس کمیٹی کے آخری اجلاس میں دانش کنیریا سے ایسیکس پولیس کے انٹرویو کی کاپی مانگی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سابق سپن بالر دانش کنیریا پر انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہیں اس مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا لیکن ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔
لندن میں اولڈ بیلی کی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ دانش کنیریا نے ایسیکس کے ایک کھلاڑی کو سپاٹ فکسنگ پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق سپاٹ فکسنگ کا یہ مبینہ واقعہ ستمبر دو ہزار نو میں درہم اور ایسکس کے درمیان میچ میں پیش آیا۔ مقدمے کے ایک کردار ایسکس کے فاسٹ بالر مرون ویسٹ فِیلڈ نے ہدایات کے مطابق خراب بالنگ کروانے کے عوض چھ ہزار پاؤنڈ وصول کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
الزام کے مطابق یہ سودا ایسکس کے ہی دانش کنیریا کے ذریعے کروایا گیا۔ استغاثہ تفصیلات کے مطابق یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایسکس کے ہی ایک اور کھلاڑی ٹونی پلادینو ویسٹ فیلڈ کے فلیٹ پر گئے جہاں فاسٹ بالر نے انہیں پیسے دکھائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ دانش کنیریا کو، جنہوں نے سن دو ہزار پانچ میں ایسکس کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی، دو ہزار آٹھ میں آئی سی سی نے متنبہ کیا تھا کہ وہ ’انتہائی نامناسب صحبت‘ میں وقت گزار رہے ہیں۔

















