
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و کوچ وقاریونس کے خیال میں انگلینڈ نے پاکستانی ٹیم کو سیریز سے قبل آسان سمجھا تھا اور اس کا خیال تھا کہ اپنے سے نیچے کی رینکنگ کی ٹیم کو ہرانا مشکل نہیں ہوگا لیکن پاکستانی اسپنرز نے انہیں مشکل حالات سے دوچار کردیا۔
وقاریونس نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’اس سیریز میں پاکستان کی کامیابی کا تمام تر سہرا بولرز کے سر جاتا ہے سعید اجمل، عبدالرحمن، عمرگل اور محمدحفیظ نے مہارت سے بولنگ کرکے کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔‘
’اعزازچیمہ اور جنید خان شاید بڑی ٹیم کے سامنے کھیلتے ہوئے کچھ دباؤ کا شکار دکھائی دیئے۔‘
وقاریونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے کارکردگی کا وہ تسلسل برقرار رکھا جو وہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے دکھاتی آئی ہے۔
"پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو اس دباؤ سے نکلنے نہیں دیا جو ایک بار قائم ہوگیا۔"
وقار یونس
’پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو اس دباؤ سے نکلنے نہیں دیا جو ایک بار قائم ہوگیا۔گو کہ پاکستانی ٹیم پر بھی مشکل صورتحال آئی لیکن وہ اس سے نہیں گھبرائی۔‘
وقاریونس نے کہا کہ انگلینڈ کے لئے آسان نہ تھا کہ وہ پہلے ٹیسٹ کی شکست کے بعد یہاں کی کنڈیشنز میں سنبھلتی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں سعید اجمل کی شاندار بولنگ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم سر نہ اٹھاسکی۔
وقاریونس نے پاکستانی بیٹنگ کے بارے میں کہا کہ اس کے پاس ابھی بڑے ناموں والے بیٹسمین نہیں ہیں۔’یہ ایک نوجوان ٹیم ہے اس کے باوجود اسد شفیق اور اظہرعلی نے جس اعتماد سے بیٹنگ کی وہ قابل تعریف ہے۔‘
وقاریونس نے کہا کہ انہیں اس ٹیم کی کارکردگی پر خوشی ہوتی ہے کیونکہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وہ اس ٹیم کا حصہ تھے اور دو سال تک کوچ رہتے ہوئے انہوں نے کوشش کی کہ اس ٹیم کو ایک اچھی ٹیم بنایا جائے اور وہ اس کارکردگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

















