
اس سے قبل اپنے بیٹسمینوں کو کسی سیریز میں اتنی مشکل میں نہیں دیکھا
انگلینڈ کے کپتان اینڈریو سٹراؤس نے اعتراف کیا ہے کہ بیٹسمینوں کی انتہائی مایوس کن کارکردگی وائٹ واش کا سبب بنی جو پاکستانی سپنرز کے خلاف بری طرح ناکام رہے۔
سٹراؤس کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیسٹ کی شکست نے پوری سیریز کی سمت متعین کردی اور اس کے بعد ان کی ٹیم سیریز میں واپس نہ آ سکی۔
انگلش بیٹسمینوں کی خراب بیٹنگ ان کے اعدادوشمارسے جھلکتی ہے جن کے مطابق چھ چھ اننگز کھیل کر پیٹرسن سڑسٹھ، بیل اکاون اور مورگن بیاسی رنز بنا سکے۔ خود سٹراؤس صرف ایک نصف سنچری کی مدد سے ایک سو پچاس رنز بنا پائے۔
سیریز میں سب سے زیادہ ایک سو اکسٹھ رنز بنانے والے جوناتھن ٹراٹ تھے۔
سٹراؤس کا کہنا ہے کہ اگر آپ بار بار ایک سوچالیس اور ایک سو پچاس جیسے اسکور پر آؤٹ ہوتے رہیں گے تو ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکتے۔
انگلش کپتان کا کہنا ہےکہ اس خراب کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ انگلینڈ نے پاکستانی ٹیم کو اہمیت نہیں دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کا سب کو پتہ تھا اور یہ بھی سب جانتے تھے کہ پاکستانی سپنرز اور تیز بولرز حریف ٹیموں کے لیے کتنی مشکلات پیدا کرتے آئے ہیں۔
سٹراؤس کہتے ہیں کہ پاکستانی سپنرز قابل تعریف ہیں جنہوں نے متاثر کن بولنگ کرکے انگلش بیٹسمینوں کی زندگی مشکل کر دی جو ان دونوں سپنرز کے سامنے خود کو ایڈجسٹ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
سٹراؤس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے بیٹسمینوں کو کسی سیریز میں مشکل سے دوچار ہوتے نہیں دیکھا تھا جیسا کہ یہاں ہوا۔
سٹراؤس نے کہا کہ یقیناً اس خراب کارکردگی کا سب کو جواب دینا ہوگا اور مستقبل میں بہتری کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ون ڈے سیریز میں کھلاڑیوں کی فارم میں واپسی اس لیے بھی ضروری ہے کہ انہیں اس کے بعد سری لنکن چیلنج کا سامنا کرنا ہے جو یہاں جیسا تو نہیں ہوگا لیکن وہاں کی کنڈیشنز مختلف ضرور ہوں گی۔
سٹراؤس نے پاکستانی سپنرز کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا سامنا کیے بغیر ان کے خلاف تیاری مشکل تھی۔ پہلے ٹیسٹ میں ان کا سامنا ہوا اور اس میں ان سپنرز کو اعتماد مل گیا جبکہ انگلش ٹیم کے ساتھ معاملہ اس کے بالکل برعکس رہا۔
انہوں نے کہا کہ مایوس کن بات یہ ہے کہ ان کی ٹیم میں متعدد ورلڈ کلاس بیٹسمین شامل ہیں لیکن وہ اپنی صلاحیت یا اہلیت کے مطابق پرفارمنس نہ دے سکے۔
سٹراؤس نے ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں کہا کہ اس مرحلے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ انگلینڈ میں کچھ نوجوان باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں لیکن وہ ناتجربہ کار ہیں۔ متحدہ عرب امارات آئی انگلینڈ کی ٹیم میں بہترین کھلاڑی شامل ہیں لیکن انہیں حالات کے مطابق اپنی کارکردگی میں بہتری لانی ہوگی۔

















