
مشکل حالات سے گزر کر ٹیم نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ قابل تعریف ہے: مصباح
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے خلاف تاریخی جیت کو وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ دنیا کی نمبر ایک ٹیم کو ہرانے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم دنیا بھر کی توجہ کی حقدار ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے نظرانداز کرنے کے بجائے اہمیت دی جائے۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جن حالات سے گزرنے کے بعد اس ٹیم نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
مصباح الحق کہتے ہیں کہ یہ ٹیم مشکل حالات میں مقابلہ کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے اور اسے چیلنج قبول کرنا آتا ہے۔
پاکستانی کپتان نے کہا کہ اس تاریخی کامیابی نے کرکٹ کی دنیا کو سیدھا سادہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک اہم اور بڑی ٹیم ہے اور عالمی کرکٹ کے فیصلہ سازوں کو اب پاکستان میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کیونکہ جن حالات کو جواز بناکر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ منقطع کی گئی ہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔
مصباح الحق نے کہا کہ یہ انتہائی غیرمعمولی بات ہے کہ پاکستان نے پہلی اننگز میں صرف ننانوے پر آؤٹ ہونے کے بعد واضح فرق سے ٹیسٹ میچ جیتا ہے۔
واضح رہے کہ انیس سو سات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ٹیسٹ میچ اپنی پہلی اننگز میں سو سے کم سکور پر آؤٹ ہونے کے باوجود جیتا ہو۔
مصباح الحق نے کہا کہ جب پاکستانی ٹیم سیریز کھیلنے متحدہ عرب امارات آئی تھی تو اس کے ذہن میں صرف یہی تھا کہ مقابلہ کرنا ہے اور جیتنے کی کوشش کرنی ہے لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کلین سویپ جیسا کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک جیت پر خوش ہوکر اطمینان سے نہ بیٹھاجائے۔ ایک پروفیشنل کرکٹر کے طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ ایک جیت کو وہیں پر چھوڑ کر مستقبل کے بارے میں سوچا جائے کیونکہ اگر اسی ایک جیت کے بار ے میں ہی سوچیں گے تو آگے بڑھنے کی جستجو اورکچھ کر دکھانے کی لگن ختم ہوجاتی ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ اس ٹیم کی سب سے اہم خوبی کھلاڑیوں کی خود اعتمادی ہے۔ مشکل حالات میں ہونے کے بعد ٹیم نے جس طرح ٹیسٹ میچز جیتے ہیں وہ ان کھلاڑیوں کے اعتماد کا پتہ دیتے ہیں۔
مصباح الحق نے نوجوان اسد شفیق اور اظہرعلی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے مشکل صورتحال میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کی ۔اسد شفیق اگر پنتالیس رنز کی اننگز نہ کھیلتے تو شاید ٹیم ننانوے کے بجائے پنتالیس پر ہی آؤٹ ہوجاتی اسی طرح اظہرعلی نے دوسری اننگز میں میچ وننگ سنچری اسکور کی۔

















