bbc.co.uk navigation

دبئی ٹیسٹ: انگلینڈ 104 رنز پر چھ آؤٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 3 فروری 2012 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

انگلینڈ کو پاکستان پر پانچ رنز کی برتری حاصل ہے اور پہلی اننگز میں اس کی چار وکٹیں باقی ہیں

دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن بولنگ کے طوفان میں بیٹسمینوں کے لیے جائے پناہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ کی بے اعتباری پھر عیاں ہوئی اور اسے زخمی شیر کی طرح بپھری انگلش بولنگ نے ننانوے رنز پر محدود کردیا اور پھر انگلینڈ کے لیے بھی بیٹنگ پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوسکی جس نے کھیل کے اختتام پرایک سو چار کے سکور پر چھ وکٹیں گنوا دی تھیں۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر کپتان سٹراس اکتالیس اور اینڈرسن تین رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

انگلینڈ کو پاکستان پر پانچ رنز کی برتری حاصل ہے اور پہلی اننگز میں اس کی چار وکٹیں باقی ہیں۔

مصباح الحق کا ٹاس جیت کر اپنی مضبوط بولنگ کے بجائے بے اعتبار بیٹنگ کو آزمانے کا فیصلہ منہ میں آئے کڑوے بادام کی طرح رہا۔

میچ کے پہلے ہی اوورمیں جیمز اینڈرسن نے توفیق عمر کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔

اظہرعلی اور محمد حفیظ کو ناٹ آؤٹ دینے کے سائمن ٹافل کے فیصلے انگلش ٹیم نے چیلنج کئے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انہیں اپنے حق میں کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

اظہرعلی ایک رن بناکر براڈ کی گیند پر میٹ پرائر کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

محمد حفیظ تیرہ رنز بناکر براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

وہ بلے کو تالی کے انداز میں بجاتے ہوئے واپس گئے جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔

یونس خان چار رنز پر براڈ کی گیند پر میٹ پرائر کو کیچ تھماگئے۔

وہ اس سیریز میں جتنی آسانی سے بولرز کے ہتھے چڑھ رہے ہیں وہ سب کے لیے حیران ہے۔ اس سیریز کی چار اننگز میں وہ صرف چھیاسٹھ رنز بنا پائے ہیں۔

پاکستانی ٹیم ہر مشکل میں کپتان مصباح الحق کی طرف دیکھتی آئی ہے لیکن اس مرتبہ امید کی یہ ڈوری بھی ٹوٹ گئی۔

مصباح الحق ایک رن بنا کر اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا لیکن ٹی وی امپائر نے سٹیو ڈیوس کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

پاکستان کی یہ پانچویں وکٹ اکیس رنز پر گری۔

پہلے ٹیسٹ میں اسی میدان پر مشکل صورت حال میں نصف سنچری بنانے والے وکٹ کیپر عدنان اکمل اس بار صرف چھ رنز پر براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

عبدالرحمن سوان کی گیند پر غیرضروری شاٹ کھیل کر پیٹرسن کو کیچ دے گئے تو پاکستانی ٹیم کا سکور سات وکٹوں پر چوالیس رنز تھا اور وہ اپنے سب سے کم سکور ترپن رنز کا ناپسندیدہ ریکارڈ بہتر بنانے کے خطرے سے دوچار تھی۔

اسد شفیق اور سعید اجمل کی چونتیس رنز کی شراکت کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف اپنے سب سے کم سکور بھہتر رنز پر آؤٹ ہونے سے تو بچ گئی لیکن مونٹی پنیسر دونوں کو ایل بی ڈبلیو کے ایک جیسے انداز سے پویلین بھیجنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسد شفیق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پینتالیس رنز بنائے۔

اینڈرسن نے اننگز میں اپنی تیسری وکٹ کے ساتھ عمرگل کو بولڈ کر کے پاکستانی اننگز کا خاتمہ کردیا لیکن سب سے کامیاب بولر سٹورٹ براڈ رہے جنہوں نے چار وکٹیں حاصل کیں۔

پنیسر نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

انگلینڈ نے پہلی اننگز شروع کی تو عمرگل نے ایک کے بعد ایک دو ضربیں لگائیں ۔ پہلے انہوں نے کک کو عدنان اکمل کے عمدہ کیچ کی بدولت میدان سے باہر جانے پر مجبور کیا اور پھر جوناتھن ٹراٹ کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ ٹراٹ نے امپائر سٹیو ڈیوس کے فیصلے پر ریویو نہیں لیا تاہم بعد میں ری پلے بتارہا تھا کہ گیند لیگ سٹمپ سے باہر جا رہی تھی۔

سات رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد سٹراس اور پیٹرسن نے ستاون رنز کی شراکت قائم کی اس موقع پر پیٹرسن بتیس رنز بناکر عبدالرحمن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

یہ اس سیریز میں چونتیسواں ایل بی ڈبلیو فیصلہ تھا اس طرح تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ تینتیس ایل بی ڈبلیو کا عالمی ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

سابقہ ریکارڈ سنہ انیس سو ترانوے میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی سیریز میں قائم ہوا تھا۔

ای این بیل کی بھی خراب فارم کا سلسلہ جاری رہا اور صرف پانچ رنز پر انہیں سعید اجمل نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔

عبدالرحمن نے مورگن کی ایل بی ڈبلیو کے ذریعے وکٹ ریویو سے حاصل کی جبکہ سائمن ٹافل انہیں ناٹ آؤٹ قرار دے چکے تھے۔

ایک ہی دن کے کھیل میں دنیا کے بہترین امپائر کے تین فیصلے ٹیکنالوجی نے غلط ثابت کر دیے۔

دوسرے ٹیسٹ کے مین آف دی میچ عبدالرحمن نے میٹ پرائر کو چھ رنز پر بولڈ کیا تو انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے سکور سے ایک رن پیچھے تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔