
ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستان کی72 رنز کی شاندار جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ عمدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ذریعے ہی انگلش بیٹنگ کو قابو کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔
عبدالرحمن نے ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں میچ وننگ چھ وکٹیں حاصل کیں۔
دو ٹیسٹ میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد بارہ ہوگئی ہے۔
عبدالرحمن نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سب کو معلوم تھا کہ انگلینڈ کے بیٹسمین ایشیائی وکٹوں اور کنڈیشنز میں اسپن بولنگ پر مشکل سے دوچار ہوتے ہیں اور یہی نکتہ ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ۔بولرز نے گیم پلان کے مطابق بولنگ کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
اکتیس سالہ عبدالرحمن نے جو چودہ ٹیسٹ میچوں میں اڑسٹھ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے بہت ہی آسانی سے انگلینڈ کو زیر کرلیا لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کو سخت کرکٹ کھیلنی پڑی کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم عالمی نمبر ایک ٹیم ہے۔
سعید اجمل کے ساتھ اپنی جوڑی کے بارے میں سوال پر عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ دو سال سے سعید اجمل کے ساتھ وہ بولنگ کررہے ہیں اور انہیں بہت مزا آرہا ہے ۔دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔جب سعید اجمل ایک اینڈ سے بولنگ کررہے ہوتے ہیں تو ان میں بھی اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔
عبدالرحمن نے کہا کہ سعید اجمل اسوقت دنیا کے نمبر ایک اسپنر ہیں اور جب بھی دونوں بولنگ کرتے ہیں کوشش یہی رہتی ہے کہ بیٹسمین کو رنز نہ کرنے دیں اور ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکر وکٹ حاصل کریں۔
جب عبدالرحمن سے پوچھا گیا کہ گزشتہ ٹیسٹ میں آپ نے سعید اجمل کو دس وکٹیں دلانے میں مدد کی تھی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ ٹیم گیم ہے جس میں کبھی وہ بازی لے جاتے ہیں تو کبھی سعید اجمل قابل ذ کر کارکردگی دکھاجاتے ہیں۔
پچھلے ٹیسٹ میں سعید اجمل نے جو شاندار بولنگ کی وہ بجاطور پر دس وکٹوں کے مستحق تھے۔

















