
تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے
پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے آخروقت تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اسپن بولنگ کی قوت کے بل پر انگلینڈ کو ابوظہبی ٹیسٹ میں 72 رنز سے شکست دیدی۔
اس جیت کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں کی سیریز بھی اپنے نام کرلی ہے۔
دبئی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ اس نے تین دن میں ہی دس وکٹوں سے جیتا تھا۔
پاکستانی بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی انگلینڈ کو اگرچہ 145 رنز کا ہی ہدف دے سکی لیکن اس کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم چوتھے دن ہی 72 رنز پر ریزہ ریزہ ہوگئی جو پاکستان کے خلاف اس کا سب سے کم اسکور بھی ہے۔
لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمن نے اس فتح میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے صرف پچیس رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں جو ان کی بہترین انفرادی بولنگ بھی ہے۔
وہ اپنی شاندار بولنگ پر مین آف دی میچ بھی قرار پائے۔
سعید اجمل نے تین کھلاڑی آؤٹ کئے۔
انہوں نے اپنے انیسویں ٹیسٹ میں وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کرلی۔اس طرح انہوں نے وقاریونس اور محمد آصف کا سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں سو وکٹیں لینے کا پاکستانی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
انگلینڈ نے جب دوسری اننگز شروع کی تو اینڈریو اسٹراؤس کو بخوبی اندازہ تھا کہ اسپن کا بارود کسی بھی وقت ان کی بیٹنگ کو اڑاسکتا ہے اور جوں جوں اننگز بڑھتی گئی اسپن بولنگ پر عالمی نمبر ایک ٹیم کے ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کی کمزوری عیاں ہوتیں گئیں۔
نئی گیند سے بولنگ کا آغاز کرنے والے محمد حفیظ نے پہلی پھلجڑی جلائی جب انہوں نے الیسٹر کک کو سات رنز پر اپنی ہی گیند پر کیچ کرلیا۔
ایئن بیل تین رنز بناکر سعید اجمل کی گیند پر بولڈ ہوئے تو انگلش ٹیم وکٹ اور پاکستانی بولرز دونوں کے ارادے بھانپ چکی تھی۔
عبدالرحمن نے اپنے تیسرے اوور میں کیون پیٹرسن کو ایک رن پر ایل بی ڈبلیو اور مورگن کو صفر پر بولڈ کیا تو انگلینڈ کی مشکلات بڑھ چکی تھیں۔
عبدالرحمن نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کپتان اسٹراؤس کو32 کے انفرادی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔
عبدالرحمن اپنے دسویں ا وور میں پھر طوفان لے آئے جو جوناتھن ٹراٹ کو ایک اور اسٹورٹ براڈ کو صفر پر اڑا لے گیا۔
سعید اجمل نے سوآن اور خطرناک پرائر سے ایک ہی اوور میں چھٹکارہ حاصل کرلیا تو دوسری جانب سے عبدالرحمن نے اینڈرسن کو آوٹ کرکے انگلینڈ کی اننگز تمام کردی۔
اس سے قبل پاکستانی ٹیم اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں 89 رنز کا اضافہ کرسکی۔
مونٹی پنیسر نے43 کے انفرادی اسکور پر اسد شفیق کو سلپ میں جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں کیچ کراکر88 رنز کی اہم شراکت کا خاتمہ کردیا۔
نئی گیند پاکستانی ٹیم پر بجلی بن کر گری اینڈرسن نے وکٹ کیپر پرائر کی مدد سے اظہرعلی کی وکٹ حاصل کرڈالی۔
اظہرعلی نے آٹھ چوکوں کی مدد سے68 رنز اسکور کئے۔
اظہرعلی کو 65 کے اسکور پر امپائر ڈیوس نے ایل بی ڈبلیو دے دیا تھا لیکن ریویو پر ٹی وی امپائر بلی باؤڈن نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔
اگلے ہی اوور میں اسٹورٹ براڈ نے عدنان اکمل کو تیرہ کے اسکور پر اسٹراؤس کے ہاتھوں کیچ کرایا تو پاکستان کا اسکور سات وکٹوں پر 172 رنز تھا۔
عبدالرحمن اور سعید اجمل نے ہر رن کو غنیمت جانتے ہوئے اسکور بورڈ کو متحرک رکھا لیکن دونوں کی چھبیس رنز کی شراکت کھانے کے وقفے کے بعد پہلے ہی اوور میں سوآن نے ختم کردی جب انہوں نے دس رنز بنانے والے عبدالرحمن کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔
مونٹی پنیسر کی اننگز میں پانچویں وکٹ سعید اجمل کو سترہ رنز پر اینڈرسن کے ہاتھوں کیچ کراکر حاصل کی ۔
پاکستانی اننگز بھی پنیسر کی گیند پر تمام ہوئی جب انہوں نے جنید خان کو بولڈ کردیا۔ اسطرح جنید خان نے پیئر حاصل کیا۔
مونٹی پنیسر نےباسٹھ رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔
یہ نواں موقع ہے جب پنیسر نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔



















