یہ جیت معنی رکھتی ہے: مصباح الحق

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 28 جنوری 2012 ,‭ 15:45 GMT 20:45 PST

عالمی نمبر ایک ٹیم کو مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں شکست سے دوچار کرنے کے بعد مصباح الحق بجا طور پر خود پر اور اپنی ٹیم پر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم نو ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے متحدہ عرب امارات آئی تھی اور یہاں صرف سات دن کی کرکٹ میں اسے اندازہ ہوگیا کہ کاغذ اور کمپیوٹر پر عالمی نمبر ایک ہونا اور بات ہے اور میدان میں کچھ کردکھانا اور۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ گزشتہ سال جب پاکستانی ٹیم جیت رہی تھی تو یہ باتیں ہورہی تھیں کہ اس کا اصل امتحان انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کے خلاف ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس کے خلاف کیسی کارکردگی دکھاتی ہے۔ دبئی کے بعد اب ابوظہبی کی جیت نے یہ ثابت کردیا ہےکہ پاکستانی ٹیم بڑی ٹیموں کے خلاف بھی غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ پوری دنیا کو اب یہ مان لیناچاہیے کہ پاکستانی کرکٹ اوپرآ رہی ہے۔ ’جو بھی ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے اس کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہئے۔ پاکستانی ٹیم میں جو خود اعتمادی آئی ہے اور وہ آئندہ بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی‘۔

مصباح الحق اس سے قبل پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جتوا چکے ہیں۔ ویسٹ انڈیز سے سیریز برابر رہی تھی جبکہ ان کی کپتانی میں پاکستان نے زمبابوے کے خلاف بھی واحد ٹیسٹ جیتا تھا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بولرز پر بھروسہ تھا کہ وہ ایک سوپنتالیس رنز پر بھی فائٹ کرینگے کیونکہ جب پاکستانی ٹیم بیٹنگ کررہی تھی اس وقت بھی وکٹ بیٹنگ کے لیے آسان نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ اس سیریز میں انگلش بیٹنگ پاکستانی بولنگ پر مشکلات کا شکار رہی ہے اس لیے یقین تھا کہ ایک اچھا میچ ہوگا اور پھر فیصلہ کن مرحلے میں اسپنرز نے بہت ہی زبردست بولنگ کی۔

"اس سیریز میں انگلش بیٹنگ پاکستانی بولنگ پر مشکلات کا شکار رہی ہے اس لیے یقین تھا کہ ایک اچھا میچ ہوگا اور پھر فیصلہ کن مرحلے میں اسپنرز نے بہت ہی زبردست بولنگ کی۔"

مصباح الحق

پاکستانی کپتان نے کہا کہ بڑی بڑی ٹیمیں ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگز کھیلنے سے گھبراتی ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔

’پانچ دن کی کرکٹ کا نچوڑ آخری اننگز میں ہوتا ہے اور جب وکٹ بولرز کے لیے مدد گار ہو اور بولنگ لائن مضبوط ہو تو پھر کسی بھی بیٹنگ لائن کے لئے چوتھی اننگز میں کھیلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے‘۔

مصباح الحق نے کہا کہ عبدالرحمن ٹیم کے ایک اہم بولر ہیں اور جب بھی ضرورت پڑی ہے انہوں نے وکٹیں حاصل کی ہیں خاص کر جب سعید اجمل کو وکٹ نہیں مل رہی ہوتی ہے عبدالرحمن ٹیم کے لیے کارآمد بن جاتے ہیں۔

مصباح الحق نے انگلینڈ کی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ اگر کوئی ٹیم کسی کنڈیشن کی عادی نہیں ہے تو یقیناً اسے دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پاکستانی ٹیم انگلش موسم میں مشکل سے دوچار ہوتی ہے۔ انگلینڈ کو موجودہ سیریز میں ورلڈ کلاس اسپن بولنگ کا سامنا کرنا پڑا اور وکٹیں بھی ان کے لئے مشکل ثابت ہوئیں‘۔

متعلقہ عنوانات

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔