
ٹیم میں واپسی کے لیے مشتاق احمد نے ان کی بہت مدد کی: مونٹی پنیسر
لیفٹ آرم سپنر مونٹی پنیسر کے لیے ڈھائی سال بعد دوبارہ انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی بالکل ایسے ہی ہے جیسے ٹیسٹ کرکٹ کا دوسرا آغاز۔
مونٹی پنیسر نے دو ہزار نو کی ایشیز سیریز کے کارڈف ٹیسٹ میں جیمز اینڈرسن کے ساتھ ملکر انگلینڈ کو یقینی شکست سے بچایا تھا لیکن اس میچ کے بعد وہ ٹیم کا حصہ نہیں رہے تھے اور انگلینڈ کی ہر حکمت عملی اور منصوبہ بندی میں آف سپنر گریم سوآن کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی تھی اور اب دوبارہ انگلینڈ نے مونٹی پنیسر کی طرف دیکھا ہے۔
مونٹی پنیسر کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ ابوظہبی کا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میچ شروع ہونے سے قبل انہیں بتایا گیا کہ وہ یہ میچ کھیلیں گے۔ یہ سنتے ہی وہ نروس اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا ہوگئے تھے۔
مونٹی پنیسر کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اچھی کارکردگی سے ٹیم میں جگہ برقرار رکھیں اور وہ خود کو نمبر ایک بولر کے طور پر دیکھنا چاہیں گے۔
مشتاق احمد بے حد مددگار
"انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے لیے مشتاق احمد نے ان کی بہت مدد کی۔انہوں نے ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ سسیکس کاؤنٹی میں جا کر کھیلیں اور اپنا اعتماد بحال کریں۔ انہوں نے ہی حوصلہ دیا کہ وہ دوبارہ انگلینڈ کے لیے ضرور کھیلیں گے اور جب انہوں نے کاؤنٹی میں وکٹیں حاصل کیں تو مشتاق احمد کی خوشی دیکھنے سےتعلق رکھتی تھی"
مونٹی پنیسر
مونٹی پنیسر پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد کو بے حد مددگار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے لیے مشتاق احمد نے ان کی بہت مدد کی۔انہوں نے ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ سسیکس کاؤنٹی میں جا کر کھیلیں اور اپنا اعتماد بحال کریں۔ انہوں نے ہی حوصلہ دیا کہ وہ دوبارہ انگلینڈ کے لیے ضرور کھیلیں گے اور جب انہوں نے کاؤنٹی میں وکٹیں حاصل کیں تو مشتاق احمد کی خوشی دیکھنے سےتعلق رکھتی تھی۔
پنیسر کہتے ہیں کہ مشتاق احمد ان سے جادوئی گیندوں کی توقع نہیں کرتے بلکہ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ موثر اور مستقل مزاجی سے بولنگ کرنے پر ہی وکٹیں ملتی ہیں۔
پنیسر کہتے ہیں کہ گریم سوآن کے ساتھ بولنگ کا اپنا مزا ہے۔ دراصل یہ حریف ٹیم کے لیے دوہری مشکلات کا سبب بنتی ہے کیونکہ بہت سے بیٹسمین آف سپن کو اچھا کھیلتے ہیں تو وہ دوسرے اینڈ سے ان بیٹسمینوں کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں اور اگر کوئی بیٹسمین ان کی گیندوں کو اچھا کھیلتا ہے تو سوآن کی طرف سے دباؤ آ جاتا ہے۔

















