آخری وقت اشاعت:  اتوار 12 جون 2011 ,‭ 15:03 GMT 20:03 PST

اولمپک مشعل کی تاریخ: تصاویر میں

  • برلن اولمپکس 1936: پہلی ٹارچ ریلے انیس سو چھتیس کی برلن اولمپکس سے قبل منظر عام پر آئی۔ اس کا ڈیزائن سنگ تراش والٹر لیمک نے تیار کیا تھا جبکہ اس ٹارچ کو فولاد اور اسلحہ بنانے والی کمپنی فریڈرک کروپ نے بنایا۔ تین ہزار آٹھ سو چالیس ٹارچیں، تین ہزار تین سو اکتیس دوڑنے والوں کے لیے بنائی گئیں۔ ٹارچ میں دو الگ الگ فیوز لگائے گئے تھے تاکہ بجھ جانے کی صورت میں آگ دوبارہ جلائی جا سکے ۔ فولاد کے بنائے گئے فیوز کی لمبائی ستائیس سینٹی میٹر تھی اور ان کا وزن ساڑھے چار سو گرام تھا۔

  • لندن اولمپکس 1948: اولمپک کھیل اور ٹارچ ریلے دونوں آخری دفعہ برطانیہ میں انیس سو اڑتالیس میں منعقد کیے گئے تھے۔ ٹارچ، کلاسیکی فن تعمیر کے شوقین، ریلف لیورز نے ڈیزائین کی تھی۔ انھیں کم قیمت میں مگر ایک شاندار ٹارچ بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔ دو طرح کی ٹارچیں بنائی گئی تھیں۔ ایک ایلومینیئم کی اور دوسری سٹیڈیم میں ریلے کے آخری فاصلے کو طے کرنے کے لیے، سورج کی روشنی میں دکھائی دینے والے فولاد کی۔

  • ہیلسنکی اولمپکس 1952: سینکڑوں کے بجائے صرف بائیس ٹارچیں بنائی گئیں جبکہ سولہ سو گیس کے ڈبے انھیں جلانے کے لیے بنائے گئے۔

    مرد حضرات ٹارچ کو لے کر ایک کلومیٹر کے فاصلے تک بھاگے جبکہ عورتیں اس سے تھوڑا کم۔ تاکہ اس لیے کہگیس ختم نہ ہو، بھاگنے والے گیس بھری ٹارچ آپس میں ہر بیس منٹ بعد بدل لیتے۔

  • میلبرن اولمپکس 1956: اس ٹارچ کے ڈیزائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹارچ لندن 1948 کی ٹارچ سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ یہ ٹارچ سویڈن سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا پہنچی۔ آسٹریلیا میں اس ٹارچ کا سفر سیلابوں سے بچتے ہوئے اور اونچی نیچی سڑکوں پر ہوا۔ موسم کی وجہ سے اس سفر میں ہر میل کا فاضلہ طے کرنے کا وقت مختلف تھا۔ یہ ٹارچ میلبرن 20470 کلومیٹر کا سفر طے کر کے پہنچی اور اس کو پہنچانے میں 3118 رنرز نے حصہ لیا۔

  • روم اولمپکس 1960: کانسی کی بنی ہوئی پتلی دبلی پانچ سو اسی گرام کی ٹارچ کا ڈیزائن قدیم زمانے کی یادگاروں سے لیا گیا تھا۔ ریلے یونان سے شروع ہوئی اور اس نےقدیم زمانے کا وہ راہ لیا جو ایک دور میں سسلی اور اٹلی فتح کرنے والوں نے لیا تھا۔

  • ٹوکیو اولمپکس 1964: یہ مشعل زمینی، فضائی اور سمندری سفر طے کر کے اولمپیا سے ٹوکیو پہنچی۔ ہیروشیما، جاپان میں چھ اگست انیس سو پینتالیس کو پیدا ہونے والے یوشینوری ساکائی آخری مشعل بردار تھے اور انھوں نے ہی سٹیڈیم میں نصب اولمپکس مشعل روشن کی۔

  • میکسکو سٹی 1968: ان تین ہزار جھاڑو کی شکل نما مشعلوں پر میکسکو 68 نقش ہوا تھا۔ ریلے نے کرسٹوفر کولمبس کا یورپ سے امریکہ تک کا راستہ لیا اور پہلی مرتبہ ایک خاتون نے اولمپکس کی مشعل جلائی۔

  • میونخ اولمپکس 1972: اوٹل آئچرز کے پتلے دبلے آدمیوں جیسے ڈیزائن والی گیس مشعل فولاد سے بنائی گئی۔ مشعل کو استعمال سے پہلے آزمایا گیا تھا لیکن یونان سے جرمنی کا سفر طے کرتے ہوئے گرمی میں شدت کی وجہ سے مزید دباؤ والی مشعلیں استعمال کرنا پڑیں۔

  • مونٹریال اولمپکس 1976: اس ٹارچ کے ڈیزائنرز کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ یہ مشعل ٹی وی پر کیسی دکھائی دے گی؟ یہ لال رنگ کی مشعل تھی جس کی شمع زیتون کے تیل سے جلتی تھی۔

    بائیس جولائی کو طوفان کی وجہ سے مشعل بجھ گئی اور اسے دوبارہ جلانا پڑا۔

  • ماسکو اولمپکس 1980: یہ بھی ماضی سے مختلف ڈیزائن تھا۔ اس گنگا جمنی (چاندی اور سنہری) مشعل دان میں چراغ ڈھک دیا گیا تھا اور ہینڈل پر بھی ایک مخصوص حفاظتی سکرین لگا دی گئی تھی۔

    یہ سوویت یونین کے بورس توچِن کا ڈیزائن تھا جسے سوویت یونین کی سرکاری ایجاد کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔ اس کو سرٹیفیکیٹ نمبر 729414 دیا گیا۔ لینِنگراڈ انٹرپرائزز نے اس ڈیزائن کی 6200 مشعلیں بنائیں۔

  • لاس اینجلس 1984: یہ مشعل ایک خاص ایلومینیئم کی بنی ہوئی تھی جس پر پھر تانبا لگایا گیا۔ اس کا ہینڈل چمڑے کا تھا۔ اس پر میموریل کولِیسئیم کی تصویر بھی تھی جہاں لاس اینجلس میں 1984 اور 1932 کے اولمپک مقابلے منعقد ہوئے لیکن اس مرتبہ اولمپک مشعل کی دوڑ کافی متنازع بن گئی کیونکہ امریکیوں نےدوڑنے والوں کو ہر کلومیٹر کی دوڑ تین ہزار ڈالر میں بیچی ہوئی تھی جس عمل پر یونانی کافی ناخوش تھے۔ مشعل کی دوڑ کے شروع ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر ہی روس نے ان مقابلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جو کہ چار سال پہلے کے امریکی بائیکاٹ کا جواب تھا۔

  • سیئول 1988: یہ مشعل ماضی کے دو ڈیزائنوں سے ملتی جلتی ہے۔ اس کو کوریا ایکسپلوسوز کمپنی نے بنایا۔ اس پر روایتی کوریائی تصاویر ہیں جن میں دو اژدہے شامل ہیں جو مغرب اور مشرق کی دوستی کی علامت کے طور پر دکھائے گئے۔ اولمپک مشعل کی دوڑ بائیس روز تک جاری رہی، اکیس شہروں سے گزری۔ اس کا راستہ چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ تھا اور اس میں ایک ہزار چار سو سڑسٹھ مشعل برداروں نے شرکت کی۔

  • بارسلونا 1992: بارسلونا کے ڈیزائنر آندرے ریکارد نے مشعل کو ایک مختلف اور لاطینی شکل دینے کی کوشش کی۔ مشعل سفر کے دوران 653 مقامات سے گزری۔ کئی مراحل میں اس کو سائیکل کے ذریعے بھی لے جایا گیا۔ مشعل کے چراغ کو اولمپک سٹیڈیم میں ماہر تیر انداز آنتونیو ریبیلو نے نشانہ بنا کر جلتے ہوئے تیر سے جلایا۔

  • اٹلانٹا 1996: ڈیزائنر میلکم گرئیر نے اس مشعل کو دھاگے سے بندھے ہوئے سرکنڈوں کی شکل میں بنا کر پرانے زمانوں کی مشعلوں کی طرف اشارہ کیا۔ ہر کھیل کی نمائندگی کے لیے اس میں ایلومینیئم کے بائیس ’سرکنڈے‘ رکھے۔ اس مشعل دان کے ساتھ کئی مسائل پیش آئے، اس کے کئی سرکنڈے پگھل گئے، مشعل نہیں دِکھ رہی تھی اور یونان میں یہ بجھ بھی گئی۔

  • سڈنی 2000: یہ مشعل سڈنی آپرا ہاؤس کے مخصوص ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ یونان میں دس روز کی دوڑ کے بعد یہ اولمپک مشعل آسٹریلیا میں ملک کے ایک جانب سے دوسری جانب لے جائی گئی۔ آسٹریلیا کی ابوریجین قوم سے تعلق رکھنے والی ایتھلیٹ کیتھی فریمین اسے اولمپک سٹیڈیم پہنچایا۔ ان کھیلوں میں انہوں نے 400 میٹر کے مقابلے میں سونے کا تمغہ بھی حاصل کیا۔

  • ایتھنز 2004: یونانی ڈیزائنر آندرئیاس نے اس ڈیزائن کے ذریعے اولمپک مقابلوں کی قدیم تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس مشعل کو زیتون کے پتے کی شکل دی۔ یہ لکڑی اور میگنیزئیم کی تھی۔ اس مشعل کو پانچ برِ اعظموں سے گزارا گیا اور اور چھبیس کروڑ لوگوں کو اسے اپنے شہر میں دیکھنے کا موقع ملا۔

  • بیجنگ 2008: اس مشعل پر بادلوں کے خاکے بھی بنائے گئے جو چینی روایت میں خوش آہنگی کے طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس مشعل کو پانچ برِ اعظموں سے گزارا گیا اور یہ سب سے زیادہ دن تک چلنے والے اولمپک مشعل دوڑ تھی۔

  • لندن 2012: لندن تیسری مرتبہ اولمپک کھیلوں کی میزبانی کر رہا ہے اور اسی لیے ایک سہ رخی مشعل بنائی گئی ہے۔ سنہرے رنگ کے ایلومینیئم کو بہت نزاکت سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں آٹھ ہزار سوراخ ہیں جو ان آٹھ ہزار مشعل برداروں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس مشعل کو لے جانے کے عمل میں شریک ہیں۔اس کی لمبائی اسّی سینٹی میٹر ہے اور اس کا شمار لمبی ترین مشعلوں میں ہوتا ہے لیکن سب سے ہلکی مشعلوں میں بھی شامل ہے۔ اس کا وزن آٹھ سو گرام ہے۔ اس وجہ سے کم عمر مشعل برداروں کو بھی اسے اٹھانے میں آسانی ہوگی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔