-
برلن اولمپکس 1936: پہلی ٹارچ ریلے انیس سو چھتیس کی برلن اولمپکس سے قبل منظر عام پر آئی۔ اس کا ڈیزائن سنگ تراش والٹر لیمک نے تیار کیا تھا جبکہ اس ٹارچ کو فولاد اور اسلحہ بنانے والی کمپنی فریڈرک کروپ نے بنایا۔ تین ہزار آٹھ سو چالیس ٹارچیں، تین ہزار تین سو اکتیس دوڑنے والوں کے لیے بنائی گئیں۔ ٹارچ میں دو الگ الگ فیوز لگائے گئے تھے تاکہ بجھ جانے کی صورت میں آگ دوبارہ جلائی جا سکے ۔ فولاد کے بنائے گئے فیوز کی لمبائی ستائیس سینٹی میٹر تھی اور ان کا وزن ساڑھے چار سو گرام تھا۔
-
لندن اولمپکس 1948: اولمپک کھیل اور ٹارچ ریلے دونوں آخری دفعہ برطانیہ میں انیس سو اڑتالیس میں منعقد کیے گئے تھے۔ ٹارچ، کلاسیکی فن تعمیر کے شوقین، ریلف لیورز نے ڈیزائین کی تھی۔ انھیں کم قیمت میں مگر ایک شاندار ٹارچ بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔ دو طرح کی ٹارچیں بنائی گئی تھیں۔ ایک ایلومینیئم کی اور دوسری سٹیڈیم میں ریلے کے آخری فاصلے کو طے کرنے کے لیے، سورج کی روشنی میں دکھائی دینے والے فولاد کی۔
-
میلبرن اولمپکس 1956: اس ٹارچ کے ڈیزائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹارچ لندن 1948 کی ٹارچ سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ یہ ٹارچ سویڈن سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا پہنچی۔ آسٹریلیا میں اس ٹارچ کا سفر سیلابوں سے بچتے ہوئے اور اونچی نیچی سڑکوں پر ہوا۔ موسم کی وجہ سے اس سفر میں ہر میل کا فاضلہ طے کرنے کا وقت مختلف تھا۔ یہ ٹارچ میلبرن 20470 کلومیٹر کا سفر طے کر کے پہنچی اور اس کو پہنچانے میں 3118 رنرز نے حصہ لیا۔
-
ماسکو اولمپکس 1980: یہ بھی ماضی سے مختلف ڈیزائن تھا۔ اس گنگا جمنی (چاندی اور سنہری) مشعل دان میں چراغ ڈھک دیا گیا تھا اور ہینڈل پر بھی ایک مخصوص حفاظتی سکرین لگا دی گئی تھی۔
یہ سوویت یونین کے بورس توچِن کا ڈیزائن تھا جسے سوویت یونین کی سرکاری ایجاد کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔ اس کو سرٹیفیکیٹ نمبر 729414 دیا گیا۔ لینِنگراڈ انٹرپرائزز نے اس ڈیزائن کی 6200 مشعلیں بنائیں۔
-
لاس اینجلس 1984: یہ مشعل ایک خاص ایلومینیئم کی بنی ہوئی تھی جس پر پھر تانبا لگایا گیا۔ اس کا ہینڈل چمڑے کا تھا۔ اس پر میموریل کولِیسئیم کی تصویر بھی تھی جہاں لاس اینجلس میں 1984 اور 1932 کے اولمپک مقابلے منعقد ہوئے لیکن اس مرتبہ اولمپک مشعل کی دوڑ کافی متنازع بن گئی کیونکہ امریکیوں نےدوڑنے والوں کو ہر کلومیٹر کی دوڑ تین ہزار ڈالر میں بیچی ہوئی تھی جس عمل پر یونانی کافی ناخوش تھے۔ مشعل کی دوڑ کے شروع ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر ہی روس نے ان مقابلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جو کہ چار سال پہلے کے امریکی بائیکاٹ کا جواب تھا۔
-
سیئول 1988: یہ مشعل ماضی کے دو ڈیزائنوں سے ملتی جلتی ہے۔ اس کو کوریا ایکسپلوسوز کمپنی نے بنایا۔ اس پر روایتی کوریائی تصاویر ہیں جن میں دو اژدہے شامل ہیں جو مغرب اور مشرق کی دوستی کی علامت کے طور پر دکھائے گئے۔ اولمپک مشعل کی دوڑ بائیس روز تک جاری رہی، اکیس شہروں سے گزری۔ اس کا راستہ چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ تھا اور اس میں ایک ہزار چار سو سڑسٹھ مشعل برداروں نے شرکت کی۔
-
اٹلانٹا 1996: ڈیزائنر میلکم گرئیر نے اس مشعل کو دھاگے سے بندھے ہوئے سرکنڈوں کی شکل میں بنا کر پرانے زمانوں کی مشعلوں کی طرف اشارہ کیا۔ ہر کھیل کی نمائندگی کے لیے اس میں ایلومینیئم کے بائیس ’سرکنڈے‘ رکھے۔ اس مشعل دان کے ساتھ کئی مسائل پیش آئے، اس کے کئی سرکنڈے پگھل گئے، مشعل نہیں دِکھ رہی تھی اور یونان میں یہ بجھ بھی گئی۔
-
سڈنی 2000: یہ مشعل سڈنی آپرا ہاؤس کے مخصوص ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ یونان میں دس روز کی دوڑ کے بعد یہ اولمپک مشعل آسٹریلیا میں ملک کے ایک جانب سے دوسری جانب لے جائی گئی۔ آسٹریلیا کی ابوریجین قوم سے تعلق رکھنے والی ایتھلیٹ کیتھی فریمین اسے اولمپک سٹیڈیم پہنچایا۔ ان کھیلوں میں انہوں نے 400 میٹر کے مقابلے میں سونے کا تمغہ بھی حاصل کیا۔
-
لندن 2012: لندن تیسری مرتبہ اولمپک کھیلوں کی میزبانی کر رہا ہے اور اسی لیے ایک سہ رخی مشعل بنائی گئی ہے۔ سنہرے رنگ کے ایلومینیئم کو بہت نزاکت سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں آٹھ ہزار سوراخ ہیں جو ان آٹھ ہزار مشعل برداروں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس مشعل کو لے جانے کے عمل میں شریک ہیں۔اس کی لمبائی اسّی سینٹی میٹر ہے اور اس کا شمار لمبی ترین مشعلوں میں ہوتا ہے لیکن سب سے ہلکی مشعلوں میں بھی شامل ہے۔ اس کا وزن آٹھ سو گرام ہے۔ اس وجہ سے کم عمر مشعل برداروں کو بھی اسے اٹھانے میں آسانی ہوگی۔

















