آخری وقت اشاعت:  منگل 9 نومبر 2010 ,‭ 10:52 GMT 15:52 PST

ذوالقرنین کا یو ٹرن: ’ کھیلنے کے لیے تیار ہوں‘

ان کے بارے میں تحقیقات آئی سی سی کرے یا پاکستان کرکٹ بورڈ وہ منصفانہ ہونی چاہیے: ذوالقرنین حیدر

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے کہا ہے کہ انہیں دوبارہ پاکستان کے لیے کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

انہوں نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ اگر حکومتِ پاکستان انہیں اور ان کے خاندان کو سکیورٹی فراہم کرے تو وہ پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے پہلے انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا اور ساتھ ہی اس بات کی تصدیق بھی کی تھی کہ انہوں نے لندن میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

آئی سی سی ذوالقرنین، بورڈ کی مدد کے لیے تیار

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ذوالقرنین حیدر کے دبئی میں ہونے والے جنوبی افریقہ کے ساتھ آخری میچ سے پہلے پاکستان ٹیم کو چھوڑ کر جانے کے فیصلے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی نے ذوالقرنین حیدر کو بھی پیشکش کی ہے کہ اگر انہیں کوئی مدد چاہیئے تو آئی سی سی اس کے لیے تیار ہے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکیوٹیو ہارون لورگاٹ نے کہا کہ ’واضح طور پر یہ پہلے پاکستان ٹیم اور پاکستان کرکٹ کا مسئلہ ہے لیکن آئی سی سی پی سی بی اور کرکٹر کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر (یہ) خبریں سچی ہیں تو ہم اس کی حالت سمجھ سکتے ہیں، لیکن ہم صرف اُس وقت مدد کر سکتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ بات کے لیے تیار ہو۔‘

دریں اثنا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینجر انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ کلِک ذوالقرنین حیدر نے مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے بارے میں پیشکش اور دھمکی کے بارے میں ٹیم منیجمنٹ کو نہ بتا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔

کلِک ’ذوالقرنین نے بہت بڑی غلطی کی‘

کلِک ذوالقرنین حیدر لندن پہنچ گے

کلِک آپ کی رائے: پاکستان کرکٹ اور ذوالقرنین تنازعہ

واضح رہے کہ ذوالقرنین حیدر مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے لیے دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف پانچویں ون ڈے سے قبل اچانک ٹیم چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔

ذوالقرنین حیدر نے لندن سے جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے ساتھ اس وقت جو صورتحال درپیش ہے اس کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے اس لیے اپنا بین الاقوامی کیرئیر ختم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص ان سے دبئی کے ٹیم ہوٹل میں ملا تھا جس نے مبینہ طور پر انہیں معاوضے کے عوض میچ فکس کرنے کی پیشکش کی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔

ذوالقرنین نے کہا کہ بظاہر وہ اکیلا ان کے سامنے آیا تھا لیکن انہیں یقین ہے کہ کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔

ذوالقرنین نے کہا کہ وہ شخص اردو بول رہا تھا لیکن اس کا لب و لہجہ پاکستانیوں سے مختلف تھا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتے تھے لہذا ٹیم چھوڑ کر لندن کو محفوظ جگہ کے طور پر منتخب کیا جہاں انسانی حقوق کے قوانین موثر ہیں۔

ایک شخص ان سے دبئی کے ٹیم ہوٹل میں ملا تھا جس نے مبینہ طور پر انہیں معاوضے کے عوض میچ فکس کرنے کی پیشکش کی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی

ذوالقرنین حیدر

انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں یہ دھمکی دبئی میں ملی تھی لہذا دبئی میں رہنا ان کے لیے خطرناک ہوسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں امیگریشن حکام ان کا انٹرویو کر چکے ہیں اور انہیں مروجہ قوانین کے تحت وکیل کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن فی الحال ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ وکیل کی خدمات حاصل کرسکیں۔

ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ اگر لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ان سے رابطہ کیا اور قانونی مشاورت کے لیے مدد فراہم کی تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

ذوالقرنین نے کہا کہ ان کے بارے میں تحقیقات آئی سی سی کرے یا پاکستان کرکٹ بورڈ وہ منصفانہ ہونی چاہیے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔