
دونوں ممالک میں فٹبال کے حوالے سے سخت ’دشمنی‘ ہے
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصر اور الجیریا کے درمیان سخت سکیورٹی میں ہونے والا فٹبال میچ میزبان ٹیم نے دو صفر سے جیت لیا ہے۔
اس طرح اب مصر نے ڈرامائی انداز میں یہ موقعہ حاصل کر لیا ہے جس سے وہ اگلے سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ میں کوالیفائی کر سکتا ہے۔
الجیریا اور مصر دونوں ہی کوالیفائنگ گروپ میں گول کے فرق سے برابر ہیں اس لیے اب بدھ کو دونوں کے درمیان سوڈان میں ایک اور میچ کھیلا جائے گا جس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ کون عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرتا ہے۔
مصر نے اپنا دوسرا گول میچ کے انجری ٹائم میں پچانویں منٹ کے بعد کیا۔
الجیریا کے لیے اس میچ کو جیتنے کی ضرورت نہیں تھی اور اگر وہ یہ میچ ایک گول سے بھی ہار جاتا تو تب بھی وہ ورلڈ کپ کے لیے سیدھا کوالیفائی کر جاتا اور دوسرے میچ کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس کے برعکس مصر کو کوالیفائی کرنے کے لیے الجیریا کو تین صفر سے ہرانا تھا جو کہ وہ نہ کر سکا۔

سنیچر کو ہونے والا میچ ایک انتہائی تناؤ کے ماحول میں کھیلا گیا
اس میچ کے لیے دونوں ٹیموں کے حمایتیوں میں تصادم کے پیشِ نظر انتظامیہ نے اضافی سکیورٹی تعینات کی ہوئی تھی کیونکہ جمعہ کو قاہرہ کے ہوائی اڈے سے الجیریا کے کھلاڑیوں کو لانے والی بس پر پتھراؤ کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر الجیریا کے کھلاڑی بھی زخمی ہوئے تھے۔
دونوں ٹیموں کے مداحوں میں جھگڑا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1970 میں الجیریا کی پولیس نے مصر کی ٹیم کے کھلاڑیوں اور حمایتیوں کے خلاف سخت رویہ روا رکھا تھا۔ 1980
میں بھی اولمپکس کے لیے کوالیفائینگ میچ کو بار بار تماشائیوں میں جھگڑے کی وجہ سے روکنا پڑا۔ 1989
میں مصر اور الجیریا کے درمیان میچ میں مصر نے الجیریا کو ہرا دیا۔ میچ کے بعد ہونے والی تقریب میں الجیریا کے مشہور فٹبال کے کھلاڑی لخدر بیلومی کو کسی بات پر غصہ آ گیا اور انہوں نے مصر کی ٹیم کے ڈاکٹر کو بوتل مار دی جس کی وجہ سے ڈاکٹر کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ بعد میں مصر کی ایک عدالت نے بیلومی کو ان کی غیر موجودگی میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔ انٹرپول تک نے ان کے وارنٹ جاری کیے۔ ان کے خلاف الزامات ایک طویل عرصے کے بعد اس سال اپریل میں واپس لے لیے گئے۔
© MMIX