Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 14 november, 2009, 17:15 GMT 22:15 PST

بلوچستان: اجلاس سولہ نومبر کو

سردار اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے خصوصی پیکج پر مشورے کے لیے بلوچستان اسمبلی کے ارکان کا ایک اجلاس سولہ نومبر کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔

تاہم بلوچستان میں زیادہ تر بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ خصوصی پیکج سے حل نہیں ہوسکتا ہے۔

لیکن صوبے کے پشتون قوم پرستوں کا موقف ہے کہ پیکج میں پشتون علاقوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل نے اس پیکج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک حکمرانوں نے بلوچستان کے مسئلے کو سمجھا ہی نہیں کیونکہ بلوچستان کے لوگوں نے تحریک کو کسی پیکج کے لیے نہیں چلایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے جو لوگ مارے گئے ہیں اور جو لوگ ابھی تک جان ہھتیلی پر رکھ جو جد وجہد کر رہے ہیں ان کا مقصد کبھی کوئی پیکج نہیں رہا ہے۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کامسئلہ کسی پیکج یا صوبائی خود مختاری سے آگے نکل چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی آگر کوئی اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے ایک سازگار ماحول بنایا جائے، فوجی آپریشن کو بند کر کے فوج کو بیرکوں میں لے جایا جائے اور لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے تو تب جاکر حکومت سے بلوچستان کے دیگر مسائل پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔

مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے جو بھی اقدام کیا جائے اس کے لیے لازمی ہے کہ صوبے میں بلوچ پشتون کو برابری کی بنیاد پر رکھا جائے

سنیٹر عبدالرحیم مندوخیل

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین اور سنیٹر عبدالرحیم مندوخیل نے اس پیکج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے جو بھی اقدام کیا جائے اس کے لیے لازمی ہے کہ صوبے میں بلوچ پشتون کو برابری کی بنیاد پر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے قدرتی و سائل پر بلوچستان کے عوام کو اختیار ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ ٹیکسیز پر زیادہ حق صوبوں کو دینا چاہیے۔

عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں پشتونوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ صوبے کاگورنر وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری بلوچ ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے چھ کے چھ ڈویژنوں کے کمشنر بلوچ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں اور سرکاری نوکریوں میں پشتونوں کوپانچ سے دس فیصد سے زیادہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔

پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر اور سنیٹر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ مشرف دور حکومت میں بلوچستان کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے مسائل بڑھ گئے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل ہو اور اس مقصد کے لیے ایک آئینی اور انتظامی پیکج تیار کیاگیا ہے جس سے بلوچستان کے مالی مسائل حل ہوں گے اور بلوچستان کے عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

مشرف دور حکومت میں بلوچستان کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے مسائل بڑھ گئے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل ہو

سنیٹر حاجی لشکری رئیسانی

اس سے قبل حکومت نے صوبے میں لیویز اور کمیشنری نظام بحال کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے بلوچستان پر سترہ ارب روپے کے اوور ڈرافٹ کو منجمد کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان کو اس مد میں اسٹیٹ بنک کو کروڑوں روپے سالانہ دینے سے چھٹکارا ملا ہے۔

لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ اس آئینی پیکج کی حمایت کے لیے تقریباً تمام پارلیمانی پارٹیوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔

بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے اس پیکج کی مخالفت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر نے کہا کہ بلوچستان کے زیادہ تر قوم پرستوں نے ہمارے ساتھ ان مسائل کے حل کے لیے جدوجہد میں حصہ لیا تھا لیکن جن لوگوں نے مخالفت کرنی ہے اس کا حل ہمارے پاس نہیں ہے مگر جتنے مطالبات تھے وہ کسی حد تک اس پیکج کے ذریعے پورے ہونے کے امکانات ہیں۔

بلوچستان میں زیادہ تر قوم پرستوں کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق زبردستی کیاگیا تھا لیکن ان باسٹھ سالوں میں بلوچسان میں پانچ فوجی آپریشن ہوئے جس کے باعث بلوچستان میں نہ صرف احساس محرومی بڑھ چکا ہے بلکہ اب تو بلوچستان میں زیادہ تر نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ اپنے لیے ایک الگ راستہ اختیار کریں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔