Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 14 november, 2009, 12:33 GMT 17:33 PST

کرکٹ میں مائنس ون فارمولہ لاگو‘

یونس خان

کیا یونس خان کو ہٹانے سے ٹیم کے مسائل کرنے میں مدد ملے گی

خوشی اور ناراضی چھپائے نہیں چھپتی لیکن پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی ناراضی ظاہر نہیں کرتے اور دل میں رکھتے ہیں البتہ خوشی ان کے چہروں پر رقص کر رہی ہوتی ہے۔

چند روز قبل پاکستان کے ٹونٹی ٹونٹی کپتان شاہد آفریدی نے ایک ٹی وی چینل پر یہ بات کہی تھی کہ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بات دل میں رکھی جائے اور اس کا اظہار نہ کیا جائے۔ انہوں نے درحقیقت اس بات سے پردہ اٹھایا تھا کہ یونس خان کے مبینہ سخت انداز کپتانی سے ناراض ٹیم کے چند کرکٹرز نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ سے بات کرنے کے لیے کہا تھا کیونکہ یہ کرکٹرز براہ راست ان سے بات کرنا نہیں چاہتے تھے۔

اور اب جب یونس خان ٹیم میں نہیں ہیں تو ان کے جانے کے بعد اگلے ہی میچ میں کرکٹرز کے چہروں پر خوشی اور اطمینان واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ یونس خان کی بحیثیت کپتان واپسی ممکن ہے۔ وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یونس خان کا کپتانی چھوڑتے ہوئے نیوزی لینڈ نہ جانا کھلاڑیوں کے عدم تعاون کا نتیجہ ہے۔ ان کے خیال میں اس کی وجہ صرف اور صرف ان کا آؤٹ آف فارم ہونا ہے جس سے نکلنے کے لیے انہیں وقت درکار ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سیاست کی طرح کرکٹ میں بھی پچھلے کئی ہفتوں سے مائنس ون فارمولے کی بات ہو رہی تھی یعنی کرکٹ یونس کے بغیر۔

اعجاز بٹ نےجب یونس خان کا استعفٰی نامنظور کرتے ہوئے انہیں کارکردگی اور فٹنس سے مشروط کرتے ہوئے اگلے ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا اعلان کیا تھا تو اسوقت بھی یہی سوالات ذہنوں میں ابھرے تھے کہ کیا یونس خان کو اپنے ان ساتھی کرکٹرز کا اعتماد حاصل رہے گا جو ان کے مبینہ سخت رویئے کی شکایت بورڈ کے چیئرمین تک پہنچانا چاہتے تھے اور کیا کھلاڑی ان کی قیادت میں سو فیصد کارکردگی دکھائیں گے۔

شیعب ملک

شعیب ملک نے گزشتہ 26 اننگز میں 71:20 کی اوسط سے دس وکٹیں حاصل کی ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بات صرف یونس خان کی اپنی خراب بیٹنگ فارم کی تھی جیسا کہ پی سی بی کے چیئرمین کا دعویٰ ہے تو کیا بورڈ انہیں اعتماد نہیں دے سکتا تھا کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ یونس خان جس پائے کے بیٹسمین ہیں انہیں کھوئی ہوئی فارم واپس لانے میں دیر نہیں لگتی۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب کپتان خراب بیٹنگ کارکردگی کے ساتھ کھیلتے رہے۔

پاکستان میں بھی کئی بار ایسا ہوا جب کپتانوں پر برا وقت آیا اور ان سے رنز نہیں بنے لیکن ٹیم میں موجود دوسرے بیٹسمینوں نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف کپتان بلکہ ٹیم کو سہارا دیا۔

سابق کپتان انضمام الحق اپنی آخری23 ٹیسٹ اننگز میں صرف چار نصف سنچریاں بناسکے تھے۔ اس عرصے میں محمد یوسف اور یونس خان ایک کے بعد ایک بڑی اننگز کھیل رہے تھے۔ یونس نے اس دوران دو سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں سکور کی تھیں۔

خود یونس خان اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’انضمام الحق اپنی کپتانی کے آخری دنوں میں بڑے سکور کی تگ ودو میں تھے تو کس نے سکور کیا؟ جب شعیب ملک کپتان تھے تو کون سکور کر رہا تھا؟ میرے لیے بھی آسان تھا کہ میں بھی دو اننگز میں بڑا اسکور کرتا اور اگلی دو تین اننگز میں جان بوجھ کر آؤٹ ہو جاتا۔‘

یونس خان کے ناکام ہونے کی صورت میں ٹیم کے دو سینئر بیٹسمینوں شعیب ملک اور محمد یوسف کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔

محمد یوسف نے بنگلہ دیش کے خلاف اپریل 2008 میں سنچری بنانے کے بعد آخری 19 ون ڈے اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔ شعیب ملک نے آخری 20 ون ڈے اننگز میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں سکور کی ہیں جبکہ بولنگ میں انتہائی غیرموثر کارکردگی دکھاتے ہوئے وہ 26 اننگز میں صرف دس وکٹیں 20ء71 کی اوسط سے حاصل کرسکے ہیں۔

عبدالرزاق جنہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے پر بہت شور مچا تھا آخری سترہ ون ڈے اننگز میں 46 کی اوسط سے صرف چودہ وکٹیں حاصل کر سکے اور ایک بھی نصف سنچری نہیں بنا سکے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ آج جو کرکٹرز یونس خان کو ٹیم میں دیکھنا نہیں چاہتے وہ ماضی میں اسی طرح کی سوچ شعیب ملک کے بارے میں بھی رکھے ہوئے تھے۔ اسوقت ان کرکٹرز کو یونس خان کی شکل میں ایک ہنس مکھ لیڈر بہترین متبادل کے طور پر نظر آیا تھا جبکہ آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز نے بھی بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی واپسی کے لیے کرکٹ بورڈ کے ناراض چیئرمین کو منانے کے لیے یونس خان کا ہی سہارا لیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یونس خان کے کپتانی چھوڑ دینے اور فی الحال ٹیم میں نہ ہونے سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے؟ موجودہ کپتان محمد یوسف نے دوسال قبل پاکستانی ٹیم چھوڑ کر آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کرنے کا ذمہ دار اسوقت کے کپتان شعیب ملک کے مبینہ منفی رویئے کو قرار دیا تھا جبکہ شاہد آفریدی نے بھی شعیب ملک کے رویئے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

کپتانوں کی تبدیلی پاکستانی کرکٹ میں کبھی بھی غیرمعمولی بات نہیں رہی اسی وجہ سے تو آسٹریلوی سابق کپتان ای این چیپل کا یہ مقولہ بار بار حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کہ لوگ اپنی قمیضیں اتنی تیزی سے تبدیل نہیں کرتے جتنی تیزی سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بدلتے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔