Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 16:46 GMT 21:46 PST

جوڑ توڑ کرنے والا شخص نہیں: یونس

فائل فوٹو، یونس خان

وہ ماضی میں بھی کسی کے گروپ کا حصہ نہیں بنے اور جب کپتان رہے تب بھی ایسا کچھ نہیں کیا: یونس خان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی یونس خان نے کہا ہے کہ وہ جوڑ توڑ کرنے والے شخص نہیں لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کے لیے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے بدھ کو دبئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے ملاقات میں نیوزی لینڈ کے دورے پر جانے سے معذرت کر لی جس کے بعد محمد یوسف کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قیادت سونپ دی گئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان کے اس فیصلے کاسبب یہ بتایا ہے کہ وہ آرام کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم کہا یہ جا رہا ہے کہ اس کی وجہ بعض کرکٹرز کے یونس خان کے ساتھ شدید اختلافات ہیں جو انہیں کپتان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔

یونس خان نے دبئی سے بی بی سی کو دیےگئے انٹرویو میں کہا کہ جو بھی پاکستانی ٹیم کا کپتان بنتا ہے اسے باور کرایا جاتا ہے کہ کامیاب ہونے کے لیے اسے سینیئر کرکٹرز کوساتھ لے کر چلنا اور میڈیا کو اپنا بنا کر رکھنا ضروری ہے۔

لیکن یونس خان کے مطابق یہ تمام باتیں ان کے مزاج میں نہیں کیونکہ انہوں نے جتنی بھی کرکٹ کھیلی ہے وہ پبلک ریلشننگ کے بغیر صرف اور صرف میرٹ پر کھیلی ہے۔ انہوں نہ کہا کہ وہ ماضی میں بھی کسی گروپ کا حصہ نہیں بنے اور جب تک کپتان رہے ایسا کچھ نہیں کیا۔

اس وقت جو کچھ اچھا برا ہورہا تھا لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ وہی اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہمارا مزاج بن چکا ہے کہ کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ کسی کے ساتھ کوئی گیم نہیں کھیلی اور اگر کسی نے ان کے لیے برا سوچا بھی ہے تو اس نے ٹیم اور ملک کا برا سوچا

یونس خان

یونس خان نے کہا کہ اچھا برا جو بھی ہورہا تھا لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ وہی اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہمارا مزاج بن چکا ہے کہ کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی گیم نہیں کھیلی اور اگر کسی نے ان کے لیے برا سوچا بھی تو اس نے ٹیم اور ملک کا برا سوچا۔

یونس خان نے کہا کہ ان کے لیے یہ وقت آزمائش کا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بنا کر وہ دوبارہ ٹیم میں واپس آجائیں گے کیونکہ وہ پہلے بھی اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہوچکے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ان سے اس وقت رنز نہیں بن رہے لیکن برا وقت ہر بڑے بیٹسمین پر آتا ہے لہذا صرف انہی پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرے بیٹسمینوں کی سال دوسال کی کارکردگی بھی سامنے لانی چاہیے اور صرف انہیں ( یونس خان) کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ ان تمام کرکٹرز کو بھی ٹیم میں نہیں ہونا چاہیے جن کی کارکردگی خراب رہی ہے۔

یونس خان نے کہا کہ ان کے لیے یہ وقت آزمائش کا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بنا کر وہ دوبارہ ٹیم میں واپس آئیں گے کیونکہ وہ پہلے بھی اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہوچکے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ ان پر تنقید کرنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جب انضمام الحق کپتانی کے آخری دنوں میں رنز کے لیے تگ ودو کر رہے تھے تو بڑا سکور کس نے کیا۔ جب شعیب ملک کپتان تھے تو رنز کون بنا رہا تھا۔

انہوں نہ کہا کہ اس وقت ان کے لیے یہ آسان تھا کہ دو اننگز میں رنز کرتے اور باقی اننگز میں جان بوجھ کر آؤٹ ہوجاتے لیکن آج اگر ان سے رنز نہیں ہو رہے ہیں توباقی بیٹسمین کیا کررہے ہیں؟

یونس خان نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان کا پبلک ٹرائل ہوا جس کا انہوں نے سامنا کیا لیکن اگر کسی نے بھی کوئی اونچ نیچ کی ہے اور جوڑ توڑ کی ہے تو اس کا بھی پبلک ٹرائل ہونا چاہیے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔