
رابرٹ اینکے کافی عرصے سے شدید ڈپریشن میں مبتلا تھے جو بالآخر ان کی جان لے گیا
جرمنی کے گول کیپر رابرٹ اینکے نے منگل کو چلتی ٹرین کے آگے کود کر خود کشی کر لی۔ وہ شدید ڈپریشن میں مبتلا تھے۔
سنہ دو ہزار تین میں ان کا ڈپریشن کی وجہ سے علاج بھی کیا گیا تھا۔
ان کی بیوہ ٹریسا اینکے کے مطابق جرمن فٹبالر کو ڈر تھا کہ اگر ان کی بیماری کے متعلق لوگوں کو معلوم ہوا تو کہیں ان سے ان کی لے پالک بچی نہ چھین لی جائے۔
سنہ دو ہزار چھ میں ان کی دو سالہ سگی بچی کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ دل کے کسی خاص مرض میں مبتلا تھی۔ اینکے کے لیے اپنی بچی کی موت بھلانا بہت مشکل تھا۔
ان کی موت کی خبر سن کر جرمنی نے سنیچر کو کولون میں چِلی کے ساتھ ہونے والا دوستانہ میچ ملتوی کر دیا ہے۔

سنہ 2010 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ان کا انتخاب کسی حد تک یقینی تھا
بتیس سالہ اینکے نے، جو سنہ 2004 میں ہینوور 96 میں آنے سے پہلے میں جرمنی، سپین، پرتگال اور ترکی کے کلبوں میں کھیلتے رہے ہیں، اپنے گھر کے قریب سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی ہوئی ٹرین کے سامنے کود کر جان دی۔ انہوں نے ایک چھوڑے گئے خط میں اپنی ذہنی حالت کو چھپانے پر معافی مانگی ہے۔
ٹریسا اینکے نے کہا: ’میں نے کوشش کی کہ اس کے پاس رہوں، میں نے کہا کہ فٹبال سب کچھ نہیں ہے۔ زندگی میں اور بھی خوبصورت چیزیں ہیں، یہ مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے پاس لارا تھی، اب ہمارے پاس لیلیٰ ہے۔۔۔ اس کو ڈر تھا کہ کہیں وہ لیلیٰ کو نہ کھو دے۔‘
بدھ کو ہینور میں آنجہانی گول کیپر کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں جرمنی کے کپتان مائیکل بالک کے علاوہ آٹھ سو کے قریب افراد نے شرکت کی۔
رابرٹ اینکے کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ سنہ 2010 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں جرمنی کے گول کیپر کے لیے ان کا انتخاب کسی حد تک یقینی تھا۔
© MMIX