
آسٹریلیا نے سیریز جیت لی ہے اور آخری میچ محض ایک فورمالٹی ہوگا۔
ہندوستان کے شمالی مشرقی ریاست آسام کے گوہاٹی شہر میں کھیلے گئے چھٹے ون ڈے میچ میں بھارت کو شکست دے کر آسٹریلیا نے سات میچوں کی سیریز میں 2-4 سے برتری حاصل کر کے سیریز میں اپنی کامیابی کو یقینی بنا لیا ہے۔
اب سیریز کا آخری میچ صرف محض ایک ضابطے کی کارروائی ہوگا۔
بھارت نے آسٹریلیا کے سامنے 171 رنوں کا ہدف رکھا تھا جسے آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر 42 اوور میں پورا کرلیا۔ اس میچ میں آسٹریلیا شروع سے ہی ہندوستان پر حاوی رہا۔
مائیکل ہسی 35 رن بنا کر اور ایڈم ووگس 23 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے پہلے شین واٹسن 49 رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ جس کے بعد کپتان رکی پونٹنگ 25 رن بنا کر پویلین واپس لوٹے۔
ہندوستان کی طرف سے ہربھجن سنگھ نے دو وکٹ لیے۔
گوہاٹی میں کھیلے گئے چھٹے ون ڈے میچ میں آسٹریلوی گیند بازوں کے سامنے بھارتی بلے باز کچھ نہیں کرسکے۔
مچل جانسن اور بولنجر کی قہر برساتی گیند بازی پر آدھی ٹیم صرف 27 رن پر آؤٹ ہوگئی۔
بولنجر نے پانچ جبکہ جانسن نے تین وکٹ لیے۔
شروعاتی جھٹکوں کے بعد جڈیجا اور پروین کمار کی بدولت بھارتی ٹیم 150 رنوں کو پار کرنے میں کامیاب رہی۔
پروین کمار 54 رن بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ انہوں نے 51 گیندوں میں سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے سکور بنایا۔
کپتان مہندر سنگھ دھونی اور جڈیجا نے 48 رنوں کی پاری کھیلی لیکن دھونی بولنجر کی گیند پر 24 رن بناکر آؤٹ ہوگئے۔جس کے بعد اسی اوور میں ہربھجن سنگھ بنا کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔
ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے اتری بھارتی ٹیم کو پہلے ہی اوور میں مچل جانسن نے دو جھٹکے دیئے۔
وریندر سہواگ نے دوسری گیند پر چھکا لگایا لیکن اگلی ہی گیند ان سونگ ہوئی اور وہ کلین بولڈ ہوگئے۔
اس کے بعد گوتم گمبھیر کو بھی کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ کراس بیٹ کھیلنے کے چکر میں وہ گیند کی لائن پوری طرح چوک گئے اور کلین بولڈ ہوگئے۔
سات رنوں پر دو وکٹ گوانے کے بعد ساری امیدیں سچن تندلکر سے تھیں۔ لیکن وہ دس رن بناکر آؤٹ ہوگئے۔
یوراج سنگھ بھی کوئی جادو نہیں دکھا سکے۔ سریش رینا کے پاس اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع تھا لیکن وہ بھی کچھ نہیں کرسکے اور شاٹ مڈ وکٹ پر کیچ تھما بیٹھے۔
ہندوستانی میڈیا میں کہا جارہا ہے ہندوستانی ٹیم میں سارے ٹاپ کھلاڑی موجود ہونے کے بعد تجربہ کار آسٹریلیا کی ٹیم کے سامنے بھارتی ٹیم کچھ نہیں کرسکی۔ ٹیم کی خراب بالنگ اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے نہ کرپانے کو بھی اس شکست کا ذمہ دار مانا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اپنی ہی سرزمین پر اس طرح سے ہارنے کے بعد ہندوستانی ٹیم کو یہ سوچنا ہوگا کہ ٹیم کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی حمکت عملی کیا ہو۔
© MMIX