Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 4 november, 2009, 14:50 GMT 19:50 PST

آئی سی سی رکنیت کے لیے درخواست

آئرلینڈ نے حال ہی میں سن دو ہزار دس میں ہونے والے ایف پی ٹرافی کاؤنٹی مقابلوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

آئرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مکمل رکنیت کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آئرلینڈ کو آئی سی سی کو مکمل رکنیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ آئی سی سی کا مکمل رکنیت رکھنے والا گیارہواں ملک بن جائے گا۔

اس صورت میں آئرلینڈ بنگلہ دیش کے بعد پہلا ملک ہو گا جو ایسوسی ایٹ سٹیٹس سے مکمل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی ایسوسی ایٹ رکنیت کو سن دو ہزار میں مکمل رکنیت میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

آئرلینڈ کی مکمل رکنیت بعد میں اس کو ٹیسٹ سٹیٹس دلوانے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

تاہم آئرش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وارن ڈوٹروم نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں آئی سی سی کی شرائط پوری کرنے کے لیے بہت سا کام کرنا ہو گا اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

آئرلینڈ آئی سی سی کی مکمل رکنیت کے ذریعے اس سے منسلک مالی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور مستقبل کے ٹور پروگراموں میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

آئرلینڈ نے حال ہی میں سن دو ہزار دس میں ہونے والے ایف پی ٹرافی کاؤنٹی مقابلوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ لیکن آئرلینڈ فروری میں ہونے والے کوالیفائنگ مقابلوں کے ذریعے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی فائنلز میں شرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

’ابھی بہت لمبا سفر باقی ہے۔ روایتی طور پر درخواست پر دو، تین یا زیادہ سال لگ سکتے ہیں۔ صاف طور پر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کئی رکاوٹوں کو عبور کرنا باقی ہے۔

اس سال آئرلینڈ کی ٹیم کی کامیابیوں کی فہرست میں ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے کوارٹر فائنلز سٹیج تک رسائی حاصل کرنا ہے جس کے لیے اس نے بنگلہ دیش کو شکست دی تھی۔

حالیہ سیزن میں آئرلینڈ کے دو کھلاڑیوں ایڈ جوائس اور آئیون مورگن نے انگلینڈ کی ٹیم میں شمولیت حاصل کی ہے۔ ٹیسٹ سٹیٹس حاصل کرنے کے بعد آئرلینڈ کی ٹیم ایسی صورتِ حال سے بچ سکتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔